کابل

اخلاقی پس ماندگی کا شکار اسرائیل

اخلاقی پس ماندگی کا شکار اسرائیل

 

محمد افغان

اسرائیل اخلاقی اقدار اور صنفی عفت و احترام کے حوالے سے اپنی پسماندگی اور کسمپرسی کی وجہ سے ایک ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہودیوں کے خصوصاً قومی سطح پر اخلاقی دیوالیہ پن نے دنیا کو بے چین کر دیا ہے۔ خصوصاً فلسطینی مسلم خواتین اسرائیلی جنسی بھیڑیوں کی طرف سے ایک ہمہ گیر بحران کا شکار ہیں۔ یہودی فوجیوں کی جنسی ہوس اور زنا کی حرص سے صرف فلسطین کی مسلم خواتین ہی پریشان نہیں ہیں، بلکہ بجائے خود اسرائیلی فوج میں شامل خواتین فوجی بھی مرد فوجیوں کی طرف سے جنسی حملوں کے ہمہ وقت ڈر اور خوف کا شکار ہیں۔ اگرچہ یہودیوں کے میدانِ جنگ میں زنا جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، مگر جس شدت بے دریغ طریقے سے اب یہ سنگین معاملہ دنیا کے سامنے آیا ہے، یہ دنیا کو اسرائیل کی سرکُوبی کے لیے سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔
دنیا یہودی فوجیوں کی جنسی آوارگی کی تاریخ سے خوب واقف ہونے کے علاوہ مسلم مجاہدین کے پاکیزہ کردار سے بھی گہری آگاہی رکھتی ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے میڈیا کی طاقت استعمال کرتے ہوئے حال ہی میں حماس کے مجاہدین پر 7 اکتوبر کے حملے کے دوران یہودی خواتین کے حوالے سے جنسی زیادتی کا گھٹیا اِلزام لگایا ہے۔ جب کہ خواتین پر جنسی تشدد سے متعلق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نمائندۂ خصوصی پرمیلا پیٹن نے اسرائیل کے دورے کے دوران یہ بات کہی تھی کہ “اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجہیں موجود ہیں، جن سے جنسی تشدد کی کارروائیوں کا ثبوت واضح ہوتا ہے۔” دوسری طرف اسرائیلی اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی حکومت کے الزامات دُہراتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کی کہ “7 اکتوبر کے دن ایسی تمام سرگرمیوں کو حماس سے منسوب کرنا اِس ممکنہ خدشے کی وجہ سے ممکن نہیں ہے کہ تب یہ سرگرمیاں افراتفری کی حالت میں نامعلوم عام لوگوں کے ہجوم کی طرف سے عمل میں لائی گئی تھیں۔”
جب کہ حماس نے اپنے بیان میں ایسے گھناؤنے اِلزام کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ حماس نے اپنے بیان میں اسرائیلی الزام کے پسِ پردہ سنگین مقاصد کو تشت از بام کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایسے بے بنیاد گھٹیا الزامات کے ذریعے اپنے جنگی جرائم کو اندھیرے میں چھپانا چاہتا ہے۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کوئی ایسا دستاویزی ثبوت نہیں ہے، جس میں متاثرین کے حوالے سے موجود الزامات کی سچائی سامنے آ سکے۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “پرمیلاپیٹن کی رپورٹ اسرائیلی اداروں، فوجیوں اور خودساختہ گواہوں کی بنیاد پر گھڑی گئی ہے، جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسرائیل اپنے جنگی جرائم اور عالمی سطح پر نمودار ہونے والی اخلاقی تنہائی اور تنقید کا رُخ حماس کی طرف پھیر کر اپنا بوجھ ہلکا کرے۔”
دوسری طرف دنیا اس بات کو واضح طور پر سمجھتی ہے کہ حماس اپنے مضبوط اسلامی رویّوں کی بنیاد پر جس مقدس مشن پر کاربند ہے، وہ حماس کے حوالے سے ایسے گھٹیا الزامات کی تصدیق میں واضح رکاوٹ ہیں۔ مزید یہ کہ 7 اکتوبر کے حملے میں حماس نے جن اسرائیلی مرد و خواتین کو قید کیا تھا، اُن میں سے کچھ نے اپنی رہائی کے بعد حماس کے اچھے اخلاق اور نہایت ہی عمدہ رویّوں کا اقرار کیا تھا۔ حماس نے اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ اپنے جس اسلامی سلوک کا معاملہ کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ رہا ہونے والے قیدیوں نے اپنے مختلف انٹرویوز میں حماس کے صاف و شفاف کردار کی تعریف کی تھی۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔
البتہ اسرائیل کی اپنی تاریخ جنسی زیادتیوں کے ثابت شدہ حوالوں سے لبریز ہے۔ ‘دی گارڈین’ اخبار میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں متعلقہ موضوع کے حوالے سے قائم اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے کہا تھا کہ “فلسطینی خواتین پر اسرائیلی فوجیوں کے جنسی حملوں کے الزامات قابلِ اعتبار ہیں۔ اس بارے میں دستاویزی شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے معتبر الزامات دیکھے ہیں، جن کے مطابق فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو اسرائیلی جیلوں میں رہتے ہوئے عصمت دری سمیت جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔” خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی نمائندۂ خصوصی ‘ریم السالم’ نے کہا ہے کہ جنسی تشدد کے واقعات کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘شاید بہت زیادہ وقت تک ہمیں اصل تعداد کا علم نہ ہو سکے۔’ ریم السالم نے وجہ بتاتے ہوئے نشان دہی کی تھی کہ ‘انتقامی کارروائی کے خوف سے جنسی حملوں کی رپورٹنگ میں رازداری عام بات ہے۔
اسرائیل نے مذکورہ رپورٹ کو ‘قابلِ نفرت اور بے بنیاد الزامات’ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔ جس کے جواب میں امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیوملر نے کہا کہ انتظامیہ اِ الزمات سے آگاہ ہے۔ جب کہ اقوامِ متحدہ کے متعلقہ موضوع کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ “ہم خاص طور پر اُن خبروں سے پریشان ہیں، جن کے مطابق اسرائیل کی جانب سے قید کی گئی فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو کئی طرح سے جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جیسے کہ ان کے کپڑے اُتار کر یہودی مرد فوجیوں کی طرف سے تلاش لی گئی۔ جس میں دو فلسطینی خواتین کی عصمت دری کی گئی، جب کہ دیگر کو عصمت دری اور جنسی تشدد کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی کونسل کی طرف سے مقرر کردہ آزاد ماہرین نے ‘فلسطینی قیدی خواتین کی ایسی تصاویر کی نشان دہی کی ہے، جو یہودی فوجیوں نے توہین آمیز اور عصمت دری کے نکتۂ نظر سے کھینچ کر انٹرنیٹ پر پھیلائی ہیں۔’
اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے کے سنگین جرائم صرف فلسطینی خواتین کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہیں۔ گھناؤنے کردار کی حامل یہودی فوج کا یہ معاملہ اپنی فوجی خواتین ساتھیوں کے ساتھ بھی جاری رہتا ہے۔
7اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جنونی مزاج یہودیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اپنی آرام دِہ زندگی چھوڑ کر اسرائیل آئی ہے، تاکہ وہ فلسطین کے خلاف اپنے جنونی جذبات کے تحت مسلمانوں کی نسل کُشی میں حصہ دار بن سکیں۔ اسی جذبے کے تحت فرانس سے آئی ہوئی دو یہودی خواتین ‘کرینہ اور ماریہ’ نے بطور فوجی فلسطین میں جنگی جرائم میں شمولیت اختیار کی، جہاں اُن دونوں کو اسرائیلی گیواتی بریگیڈ کے ہوس زدہ مرد فوجیوں کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ جس پر فلسطینیوں کی نسل کُشی میں مصروف کرینہ نامی فرانسیسی یہودی فوجی عورت اسرائیل فوجی کی جنسی حملے سے حاملہ ہو گئی۔ اِس صورتِ حال پر کرینہ کہنے لگی کہ “مَیں اب اپنے شوہر مارٹن کا سامنا کیسے کروں گی؟ حالانکہ اُس نے مجھے اسرائیل آنے سے منع کیا تھا، مگر مَیں نے وعدہ کیا تھا کہ مَیں بہرطور ‘محفوظ’ ہی واپس لوٹوں گی، جب کہ مَیں اب ایک افسوس ناک صورتِ حال کا شکار ہو چکی ہوں۔’ مزید المیہ یہ رہا کہ کرینہ اور ماریہ دونوں اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کی شکایت کے لیے کئی مرتبہ اسرائیلی عدالت سے رجوع کر چکی ہیں، مگر کافی وقت گزرنے کے باوجود یہودی عدالت کی طرف سے دونوں خواتین کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
رؤیا نیوز کی رواں ماہ مارچ کی 8 تاریخ کی خبر کے مطابق ‘اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی’ نے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی کو غزہ کی پٹی میں جارحیت کے دوران ایک خاتون فوجی ساتھی کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جب کہ عصمت دری کا یہ واقعہ موجودہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں پیش آیا تھا۔ یہاں سے اسرائیل میں ‘انصاف کی تیزرفتار فراہمی’ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔
اسی طرح غزہ جنگ میں حصہ لینے والی ایک چینی نژاد یہودی خاتون فوجی کو بھی رات گئے اُسے فوجی ساتھیوں کی جانب سے اجتماعی زیادتی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس چینی نژاد یہودی خاتون کا نام ابیگیل ونڈبرگ (Abigail Weinberg) ہے۔ اگرچہ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرنوت کے مطابق ابیگیل بچپن میں ہی اسرائیل کی طرف ہجرت کر گئی تھی، جس نے ستمبر 2023 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، جہاں وہ 215ویں آرٹلری بریگیڈ میں تعینات تھی۔ اُسے اُس کے مرد ساتھیوں نے جنگ کے دوران ہی اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنا لیا ہے۔
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مذکورہ زیادتیوں کے بعد طُرفہ تماشا یہ رہتا ہے کہ ایسے مجرم فوجیوں کے متاثرین کی شنوائی کا بھی کوئی قابلِ تعریف ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی اخبار ‘ہارٹیز’ کی جولائی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق جب ایک خاتون فوجی نے خود سے ہوئی جنسی زیادتی کی شکایت کے لیے متعلقہ کمیٹی سے رجوع کیا تو اس کے لیے مجرم فوجی کی کوئی سرزنش نہیں کی گئی۔ جس سے متاثرہ فوجی خاتون نے دل برداشتہ ہو کر اپنے کمانڈر کی بندوق سے خودکشی کر لی تھی۔ ہارٹیز نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والی تقریباً ایک تہائی خواتین کو سال میں کم از کم ایک بار لازمی ہی مرد فوجیوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یروشلم پوسٹ کی جنوری 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے خواتین کے ساتھ سامنے آنے والی جنسی زیادتیوں کی 1 ہزار 5 سو 42 شکایات میں سے صرف 31 پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ باقی شکایات کے ازالے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق سال بھر میں جنسی زیادتیوں کے1 ہزار 2 سو 39 کیس سامنے آئے تھے، جب کہ 2022 میں یہ تعداد بڑھ گئی تھی۔ البتہ ایسے جرائم پر سزا و جزا کا کوئی قابلِ اطمینان ریکارڈ موجود نہیں ہے، نتیجۃً اسی کھلی چھٹی کے تناظر میں اسرائیلی فوجی مزید ڈھٹائی اور بے ڈھرک طریقے سے عصمت دری کے جرائم میں مشغول رہتے ہیں۔
‘انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ انڈر اسٹینڈنگ’ نے اسرائیلی فوجیوں کے جنسی جرائم پر بامعنی تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے:
‘اسرائیل جنسی تشدد میں ڈوبا ہوا غلیظ معاشرہ ہے، جس کے گھناؤنے اخلاق کی بھاری قیمت خواتین کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اسرائیل کے اس مکروہ کردار کے پسِ پردہ فوجیوں کی سزا و جزا کے قانون سے ماورا وہ غلیظ تربیت ہے، جسے مذہبی بنیادوں پر پُشت پناہی حاصل ہے۔’