کابل

افغانستان اور آئرن پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی!

افغانستان اور آئرن پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی!

رپورٹ: الامارہ اردو
عصر حاضر میں ہونے والی ترقی سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا پہیہ لوہے سے چلتا ہے۔ لوہا انسانی زندگی میں پانی اور آکسیجن کے بعد تیسرا اہم ترین عنصر ہے۔ یہی لوہا ہے جو ہوا، زمین اور پانی کے ذریعے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا ہے، اسی لوہے کی بدولت ہزاروں کلومیٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہونا ممکن ہو گیا ہے۔ لوہے نے ہی زمین اور ہوا کو مسخر کیا ہے۔ انسان کےلیے لوہے کی خدمات ان گنت ہیں۔ جب سے لوہا انسانی خدمت کےلیے استعمال کیا جانے لگا تب سے دنیا کو ایک گاؤں کی مانند ایک محور کے گرد گھومنے لگی ہے۔
لوہا ایک ایسا مفید عنصر ہے کہ انسانی جسم اور پودوں کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے اور انسانی جسم کے لیے درکار لوہا پودوں میں موجود ہوتا ہے۔
ماضی میں بھی انسان لوہے کو استعمال کرتا تھا اور اس سے دفاعی آلات بنائے جاتے تھے، لیکن اس وقت اس کی پروسیسنگ کا عمل بہت سادہ اور آسان تھا۔ ہر شخص انفرادی طور پر لوہے کو پیس کر اسے قابل عمل بنا لیتا تھا، اس سے تلواریں، ڈھالیں، زرہ بکتر اور نیزے بنائے جاتے تھے۔
لوہے کی اسی اہمیت کے پیش نظر ملک کی صنعتی ترقی کے لیے وزارت کان کنی و پیٹرولیم نے خان اسٹیل، خان انجینئرنگ اسٹیل، اور میہن اسٹیل آئرن ملنگ کمپنیوں کے سربراہوں کے ساتھ ملک میں لوہے کی پروسیسنگ اور ملنگ کی ایک بڑی فیکٹری بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے حوالے سے ملاقات کی اور ان کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ طریقے سے سوچنے لگے۔ کمپنیوں کے سربراہوں نے بین الاقوامی معیار کے مطابق لوہے کی پروسیسنگ اور ملنگ کی ایک بڑی فیکٹری بنانے کا وعدہ کیا۔ کیوں کہ ملک میں لوہے کی ایسی بھرپور کانیں اور ذخائر موجود ہیں جس کی مثال دنیا کے ممالک میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ صرف حاجی گک لوہے کی کان بہت سے ممالک کی لوہے کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔  یہ بڑی کان جو بابا کے پہاڑوں کے شمال مشرقی حصے میں ضلع بہسود میں واقع ہے، اس کے اندر اربوں ٹن لوہا موجود ہے، اس کان کے خام مال میں دوسری کانوں کی بنسبت لوہے کی مقدار زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں وزارت مائنز اینڈ پیٹرولیم نے ان کمپنیوں کے سربراہوں کو ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لوہے کی پروسیسنگ کرنے والا یہ کارخانہ ہمارے ملک کو لوہے کی ضروریات کے لحاظ سے مکمل طور پر خود کفیل کرنے کا باعث بنے گا اور اس کے علاوہ ہماری لوہے کی درآمدات کی شرح کم ہو جائے گی، برآمدات کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ اس بڑی کان کے اوپری حصے میں خالص لوہے کا حصہ تقریباً پچاسی فی صد تک ہے۔ اس لوہے سے استفادہ کرنے کا یہ ایک اچھا موقع ہے، کیوں کہ پروسیسنگ کے مرحلے میں زیادہ لوہا ضائع نہیں ہوتا۔
ملک کے اندر سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کا احساس درد مندی ان سرمایہ کاروں کی بنسبت لائق تحسین ہے جنہوں نے مختلف ناموں سے ملک سے باہر رقم نکالا۔ یہاں ایسی شخصیات بڑی آسانی پہچانی جاسکتی ہیں جو ملک کی خیر خواہی کا سوچتے ہیں۔ ایسی شخصیات ہر قسم کے خطرات مول کر ملک کے اندر ہی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو ملک و قوم سے وفاداری کا دم بھرتے ہیں مگر نہ صرف سرمایہ کاری باہر کے ممالک میں کرتے ہیں بلکہ موقع ملتے ہی ملک سے اپنا سارا پیسہ نکالنے میں دیر نہیں لگاتے۔
ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ ملک کے جس حصے میں جس کی حاکمیت ہوتی تھی وہاں غیر قانونی طریقے سے معدنیات نکالتے اور باہر ممالک میں بیچ دیتے۔ صوبہ پنج شیر کے زمرود، حاجی گک کا لوہا اور صوبہ بدخشان کے لاجورد ایسے ہی طریقے سے بیچ دیتے تھے۔
اب جب کہ وزارت مائنز اینڈ پیٹرولیم نے سنجیدہ طریقے سے ملک میں موجود لوہے کے ذخائر سے استفادہ کرنے کے لیے ملک میں موجود آئرن پروسیسنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تو یہ بڑی اچھی پیش رفت ہے۔ اس سے پہلی مرتبہ یہ احساس ہو رہا ہے کہ ملک کے ذخائر ملک کے فائدے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔