کابل

فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا معاملہ،  عسکری جدوجہد کا سیاسی پہلو

فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا معاملہ،  عسکری جدوجہد کا سیاسی پہلو

تحریر: عبد الحئ قانت
گذشتہ دنوں آئرلینڈ، ناروے اور اسپین کی شاہی ریاستوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل یورپی یونین کے 8 ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ مالٹا اور سولوینیا نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اب تک اقوام متحدہ کے 193 میں سے 140 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ فلسطین کے قضیے کا جائزہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کی درست تفہیم ممکن ہے۔
1947 میں جب برطانیہ نے بالفور قرارداد کی بنیاد پر فلسطینی عوام کی سرزمین پر صیہونی حکومت قائم کی تو فلسطینیوں اور صیہونیوں کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔ نکبہ کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کر دیا گیا۔  1949 میں اقوام متحدہ کے معاہدے کے مطابق صیہونی حکومت کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا تاہم فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست کی درخواست بھی کی گئی۔ فلسطینی مسلمانوں اور صیہونی حکومت کے درمیان کئی جنگوں کے بعد 1988 میں الجزائر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔  اس کانفرنس کے بعد اسی سال اقوام متحدہ کی کانگریس منعقد ہوئی جس میں اکثریتی ممالک نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیا لیکن امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کو فلسطینی ریاست تسلیم کرنے سے روک دیا۔ اس پہلی لہر میں 5 یورپی ممالک نے فلسطین کو بہ طور ریاست تسلیم کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان نے بھی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فیصلہ کیا کہ فلسطین مبصر رکن کے طور پر اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کا مجاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں ریاست فلسطین کا نمائندہ بین الاقوامی فیصلوں پر ووٹ نہیں دے سکتا۔ فلسطین کے معاملے میں دنیا کے بیش تر ممالک دو ریاستی فارمولے پر یقین رکھتے ہیں لیکن عملی طور پر مغربی ممالک اس فارمولے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ فلسطین کو عالمی برادری کی طرف سے باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کرنے کے لیے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونا ضروری ہے لیکن سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے تین (فرانس، برطانیہ اور امریکہ) ہمیشہ مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ جب کہ سلامتی کونسل کے دو دیگر مستقل ارکان (روس اور چین) نے 1988 میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا۔ دو ماہ قبل سلامتی کونسل میں مستقل اور عارضی ارکان سمیت 12 ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ امریکا نے سلامتی کونسل میں پچھلی قراردادوں کی طرح اس قرارداد کو ویٹو کر دیا، یوں امریکا کی جانب سے ایک بار پھر دو ریاستی حل کے اقدام کو ناکام بنایا گیا۔ امریکا اپنے ریاستی بیانیہ کے ذریعے عوامی ذہن کو ورغلاتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا بنیادی حل دو ریاستی فارمولہ ہے لیکن عملی میدان میں وہ دو ریاستی فارمولے کی بھی مخالفت کرتا رہا ہے۔
دو ریاستی حل کی بات اوسلو مذاکرات کے نتیجے میں اس وقت ہوئی جب رام اللہ میں فتحی کی حکومت نے عالمی برادری کی موجودگی میں صیہونی جارح حکومت کو تسلیم کیا اور ان کے خلاف فوجی جدوجہد کو ختم کردیا۔ اوسلو معاہدہ فلسطین کے معاملے میں ایک بہت بڑی غلطی تھی جو یاسر عرفات کی قیادت میں فتح پارٹی نے کی تھی، لیکن کہا جاتا ہے کہ یاسر عرفات اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس سیاسی غلطی پر بہت پشیمان تھے۔ اگرچہ رام اللہ حکومت کی دنیا کے بیش تر ممالک میں سفارت خانے ہیں لیکن وہ گذشتہ چند عشروں میں سیاسی میدان میں واضح کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ رام اللہ کی صیہونی حکومت کے خلاف عوامی طاقت سے محرومی ہے۔ معاصر سیاست کی بنیاد طاقت پر ہے، جب کسی تحریک، گروہ یا حکومت کے پیچھے کوئی طاقت نہ ہو تو وہ سیاست کے میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتی۔ فتحی کی سیاسی مفاہمت اس نظریہ کی عملی مثال ہے۔

دو ریاستی فارمولا اور حماس کی پالیسی:

اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) اوسلو اجلاس کے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صیہونی حکومت کے وجود کا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر ان کی سیاسی حاکمیت کو تسلیم کرنا فلسطینی کاز کے ساتھ جفا ہے۔ حماس کا شروع دن سے موقف یہ رہا ہے کہ صیہونی جارحیت کے خلاف مسلح جدوجہد ہی طاقت کا واحد اور بنیادی ذریعہ ہے جسے کبھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ 2001 میں جب امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو حماس سمیت بڑی اسلامی تحریکوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا اور مغرب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اس لہر میں مذہبی تحریکوں کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ افغانستان اور عراق جنگ میں مصروف ہوا۔ امریکا کی اس حکمت عملی کی دوسری لہر اس وقت سامنے آئی جب مشرق وسطیٰ کے عوام نے عرب بہار کے نتیجے میں اسلام پسندوں کو ووٹ دیا۔ عرب بہار نے امریکیوں کے لیے ایک اور درد سر پیدا کر دیا۔ فلسطین کے معاملے کے لیے مصر جیسے اسٹریٹجک ملک میں اسلام پسندوں کا عروج مغرب اور خصوصا امریکا کےلیے واضح شکست تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امریکیوں نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اسلام پسندوں کی اس لہر کو بھی دبا دیا۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حماس نے محسوس کیا کہ امریکا کی قیادت میں مغرب گریٹر اسرائیل بنانے کے لیے صیہونی حکومت کو گرین سگنل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے حماس نے 2017 میں ایک نئی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کیا، جس میں اس نے 1967 سے پہلے کے سیاسی تصفیے کو تو قبول کیا، لیکن اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ نہ تو صیہونی حکومت کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اپنی جدوجہد سے دست بردار ہوگی۔ حماس کی جانب سے اس سیاسی تصفیے کہ قبولیت اوسلو معاہدے کی تصدیق نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی تھی۔ حماس کی اس نئی حکمت عملی کے دو بڑے اسباب تھے۔:
پہلا سبب فلسطین کی داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں حماس کی تنہائی تھی۔  مرسی کے اقتدار میں آنے کے بعد شام، لیبیا اور دیگر ممالک میں سیاسی عدم استحکام نے انہیں خطرناک حد تک تنہا کر دیا۔ شام کے ساتھ اس کے تعلقات بگڑ گئے، خلیجی ممالک نے امریکا کے دباؤ کی وجہ سے حماس سے تعلقات منقطع کر دیے۔ مشرق وسطی کے دیگر ممالک بھی امریکا کی قیادت میں ہونے والی جنگ کی وجہ سے دباؤ میں آگئے۔ اس صورت حال میں حماس کے لیے مشرق وسطی کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کا ایک نیا طریقہ چاہیے تھا۔
دوسرا بڑا سبب یہ تھا کہ صیہونی حکومت اور امریکہ نے حماس کی تنہائی سے استفادہ کرتے ہوئے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ ایک طرف صیہونی حکومت کے سمتریش ایسے سرکاری حکام نے جدایا اور سمیرا منصوبوں کا اعلان کیا تو دوسری طرف ٹرمپ نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا۔ اس سے قبل 2008، 2012 اور 2014 میں حماس اور غاصب صیہونیوں کے درمیان شدید جنگیں ہوئیں اور غزہ کے عوام شدید دباؤ کا شکار رہے۔ حماس کو خطے اور دنیا کے حالات بدلنے کے لیے وقت درکار تھا اور نئی سیاسی پالیسیوں نے انھیں یہ موقع فراہم کیا۔ حماس اب بھی فلسطین کی تاریخی سرزمین پر دو ریاستی فارمولا قبول نہیں کرتی۔ اس کا خیال ہے کہ فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کرنا تاریخی آزادی کی سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔

فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی نئی لہر:

ناروے، اسپین اور آئرلینڈ کی جانب سے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد مالٹا اور سولوینیا بھی مستقبل قریب میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فرانس نے بھی کہا ہے کہ اصولی طور پر اسے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن فی الوقت وہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی نئی لہر فلسطین کے قضیے پر کئی حوالوں سے اثرات ڈالے گا۔
● اس نئی لہر سے صیہونی حکومت پر بین الاقوامی سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ صہیونی حکومت غزہ میں جاری قتل و غارت کی وجہ سے یورپی یونین اور عالمی برادری میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے۔ یورپی یونین کی حکومتوں کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بنیادی وجہ ان ممالک کی عوامی دباؤ ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں انسانی حقوق کے اصولوں کا احترام کریں۔
● یہ لہر 7 اکتوبر کے تاریخی آپریشن کی ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے، جو مستقبل میں عظیم تر فلسطین کے مقصد میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
● یورپی ممالک کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ صیہونی حکومت کے لیے یورپی یونین میں تنہائی کا باعث ہوگا۔ اس تنہائی کا یورپی یونین کے بڑے فیصلوں پر واضح اثر پڑے گا۔
● فلسطینیوں کی 8 ماہ کی مسلسل جدوجہد سے وہ سیاسی نتائج حاصل ہوگئے جو ماضی میں دوسرے ذرائع سے حاصل نہیں ہوسکتے تھے۔
● فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی یہ لہر صیہونی حکومت کی طرف سے فلسطین کا نام دنیا کے نقشے سے مٹانے کے منصوبے کےلیے بہت بڑا چلینج ہے۔ اب یورپی یونین ہی میں اس اقدام کو سختی سے روکا جائے گا۔
● یہ لہر فلسطینی قوم اور عالم اسلام پر ثابت کرتی ہے کہ فلسطینیوں کی مزاحمت اسلامی دنیا کی اقوام کو دہشت زدہ کرنے والی صیہونی حکومت کو شکست دے سکتی ہے۔
● اگرچہ اس لہر کی اپنی اہمیت ہے لیکن یہ تسلیم کرنے کی یہ لہر فلسطینی ریاست کو مکمل شناخت نہیں دے سکتی کیوں کہ امریکا کی قیادت میں سلامتی کونسل کا مغربی بلاک اس کی راہ میں مزاحم ہے۔ فلسطین اس وقت ایک ریاست کے طور پر بین الاقوامی برادری کا حصہ بن سکتا ہے جب سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اس کی منظوری دے۔