اکتوبر 01, 2022

تازه ترین

چوکیوں پر قبضہ، کمانڈر سمیت 50 ہلاک، 84 سرنڈر، غنائم

چوکیوں پر قبضہ، کمانڈر سمیت 50 ہلاک، 84 سرنڈر، غنائم

کابل انتظامیہ کی فوجوں کے مراکز اور کاروان پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے پروان، ننگرہار، لوگر اور سمنگان صوبوں میں حملہ کیا،جبکہ نورستان، پکتیااور بلخ صوبوں میں کابل انتظامیہ کے 84 فوجیوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
تفصیل کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب صوبہ پروان کے صدر مقام چاریکار شہر کے اوفیان پہاڑ کی چوکیوں پر مجاہدین نے وسیع حملہ کیا، جو صبح تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں کئی چوکیاں فتح ہونے کے علاوہ فوجی کمانڈر صادق سمیت 18 اہلکار ہلاک، 4 زخمی ، ایک گرفتار اور مجاہدین نے کافی مقدار میں اسلحہ وغیرہ بھی تحویل میں لے لیا۔
دریں اثنا صوبہ ننگرہار ضلع اچین کے عبدالخیل کے علاقے نرگوسی نامی چوکی پر مجاہدین نے حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ وہاں تعینات اہلکاروں میں سے 11 ہلاک، 7 زخمی اور مجاہدین نے کافی مقدار میں ہلکے وبھاری ہتھیار و فوجی سازوسامان بھی تحویل میں لے لیا۔
دوسری جانب اتوار اور پیر کی درمیانی شب صوبہ لوگر کے صدر مقام پل عالم شہر کے موسی قلعہ کے علاقے میں چوکی پر ہونے والے حملے میں 7 فوجی ہلاک،جبکہ پیر کے روز صبح سویرے جمعہ قلعہ کے مقام پر فوجی مرکز پر مجاہدین نے میزائل داغے ،اسی وقت فوجی کاروان پر ہونے والے حملے میں ایک ٹینک تباہ، اس میں سوار 2 اہلکار ہلاک ہوئے اور عشاء کے وقت ضلع محمدآغہ کے زاہد آباد بازار میں چوکی پر حملے کے دوران 3 اہلکار ہلاک اور رات گئے دشمن نے چوکی کو چھوڑ کر فرار ہوا۔
اسی طرح اتوار اور پیر کی درمیانی شب صوبہ سمنگان ضلع درہ صوف بالا کے کوہ افغانک کے علاقے میں چوکی پر مجاہدین نے حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ وہاں تعینات اہلکاروں میں سے 7 ہلاک، 3 زخمی اور تپہ دہشکہ کے علاقے میں بم دھماہ سے ایک فوجی ہلاک، 3 زخمی ہوئے،جبکہ چوکی پر ہونے والے حملے میں ایک فوجی ہلاک، ایک زخمی ہوا۔
کمیشن برائے دعوت و ارشاد امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کی دعوت کے سلسلے میں صوبہ نورستان ضلع کامدیش کے کامدیش میں موجود کابل انتظامیہ کے بقیہ 60 فوجیوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جنہوں نے تمام اسلحہ وغیرہ مجاہدین کے حوالے کردیا۔ جبکہ صوبہ پروان کے سیاہ گرد اور کوہ صافی اضلاع میں 12 فوجی، صوبہ پکتیا ضلع سمکنی میں 5 اور صوبہ بلخ کے دولت آباد اور چاہی اضلاع میں 7 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

Related posts