اکتوبر 02, 2022

تازه ترین

امارتِ اسلامیہ کے ترجمان کی گفتگو

امارتِ اسلامیہ کے ترجمان کی گفتگو

ترتیب وترجمہ:سیدعبدالرزاق
رواں دنوں جب کہ امارتِ اسلامیہ فتوحات سے ہمکنار ہوکر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے تو یہ اعتراض اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ امارتِ اسلامیہ بزور شمشیر قابض ہونا چاہتی ہےـ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ـ ملکی تنصیبات کو تباہ کررہی ہےـ اسی طرح سے امارتِ اسلامیہ کے رہنماؤوں کا دورہ ایران ہوا ہے جس کے حوالہ سے غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ـ یہ اور بہت سارے مسائل امارتِ اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد صاحب نے ایک انٹرویو میں واشگاف انداز میں واضح کئے ہیں ـ اہمیت کے پیش نظر چند اہم نکات پیش خدمت ہیں:

جنگ کا خاتمہ اور امن کا قیام ہماری دیرینہ آرزو ہےـ آپ کو یاد ہوگا ہم نے امریکا کے ساتھ کئے گئے معاہدہ میں یہ اتفاق کیا تھا کہ معاہدہ کے دستخط ہونے کے بعد دسویں دن سے بین الافغان مذاکرات شروع ہونگےـ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ہم مذاکرات کی شدت سے خواہش رکھتے ہیں اور بھرپور سنجیدہ تھے اور اب تک ہیں ـلیکن جانبِ مقابل سے گزشتہ سولہ ماہ میں ہمیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ملا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی بجائے رکاوٹوں اور رخنوں کے آگے ڈالا گیاـ جس سے مجبور ہوکر ہم نے عسکری راہ اختیار کی اور یہ بہت ہی مختصر ہوگی ـ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ہم ایک دیرپا امن تک پہنچ جائیں گےـ ہم نے جہاد ایک مقدس مشن کی تکمیل کے لئے شروع کیا تھا کہ ملک آزاد ہو کر ایک سچے اسلامی نظام سے بہرہ ور ہوجائےـ اس لئے اگر اس نظام کے قیام اور مقصد کے حصول میں بیرونی قوت سامنے آئے گی تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا اور کوئی اندرونی قوت رکاوٹ بنے گی تو اسے راہ سے ہٹانا لازمی ہے اور اس کے خلاف جہاد فرض ہےـ

کابل انتظامیہ امن کا نہیں بلکہ جنگ کا شوق رکھتی ہےـ اس کی میں چند مثالیں عرض کرنا چاہتا ہوں ـ کچھ عرصہ پہلے اشرف غنی نے کہا کہ ہماری کمانڈو فورس چھ دنوں میں پچاس کارروائیاں کرتی ہےـ ظاہر ہے پچاس کارروائیوں کے پچاس ردعمل آئیں گے ـ لوگ اس کے مقابلہ میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تو نہیں بیٹھ سکتےـ اسی طرح ابھی سولہ دن پہلے ان کے وزیرداخلہ نے کہا کہ ہم نے اس سال طالبان کے خلاف کارروائیوں میں پچاس فیصد اضافہ کیا ہیں ـ تو جب وہ پچاس فیصد اضافہ کریں گے کیا خیال ہے پھر ہم یوں ہی دیکھتے رہیں گے؟ اسی طرح عید کے موقع پر جب تین روزہ جنگ بندی ختم ہوئی تو ھلمند اور دیگر چند صوبوں کے بڑے فوجی مراکز نے باقاعدہ اعلامیہ نشر کیا کہ ہم طالبان کے خلاف جنگوں میں شدت لائیں گےـ تو جب اشرف غنی جنگ کی ترغیب دیتا پھرےـ اس کا معاون اول امراللہ صالح دھمکیاں دیتا رہےـ اس معاونِ دوم جنگ کی آگ بھڑکاتے رہے پھر ہم کس چیز کا انتظار کریں؟ ہم نے تو سولہ ماہ انتظار کیا اور اپنی کارروائیاں کم کیں تاکہ وہ مذاکرات پر آمادہ ہوسکے لیکن انہوں نے شرافت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ طالبان کمزور ہوگئے ہیں ـ اب انہیں پتہ چل گیا ہوگا کہ کمزور کون ہیں؟

جنگ ہماری اولویت نہیں مجبوری ہےـ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کا مسئلہ فلسطین کی طرح صدیوں چلتا رہےـ ہم نے سولہ ماہ انتظار کیا اور بہر حال مذاکرات سے حل چاہا مگر جانبِ مقابل کبھی ٹرمپ کی شکست کے انتظار میں تو کبھی امریکی پالیسی کی تبدیلی کے انتظار میں اور کبھی کسی اور طریقہ سے مذاکراتی سلسلہ کو ٹالتا رہا ـ جس کے بعد ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا اور جنگ کی طرف لوٹ گئےـ لیکن اس میں بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ باوجودیکہ ہم نے ڈیڑھ ماہ میں ڈیڑھ سو سے زائد اضلاع فتح کئے ہیں مگر کہیں بھی کوئی بڑا نقصان سامنے نہیں آیاـ اکثر جگہوں پر جانبِ مقابل کے اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرکے سرنڈر کیا ہےـ البتہ اس سب کچھ کے باوجود بھی ہم نے دوحا میں ایک بااختیار اور طاقتور ٹیم بٹھارکھی ہےـ مگر جانبِ مقابل کی ٹیم کے صرف تین چار افراد وہاں موجود ہیں ـ ان کے کچھ لوگ جنگ کی صفوں میں چلے گئے ہیں اور دوسرے بعض دیگر جگہوں پر اپنی عیاشی کررہے ہیں ـ ہمارے اور ان کے درمیان بنیادی اختلاف یہ ہے کہ وہ یہاں بھی مغربی سسٹم کا نفاذ چاہتے ہیں ـ وہی سسٹم جو جارحیت پسندوں نے تشکیل دیا ہےـ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ ملک مسلمانوں کا ہے یہاں نظام وہی ہوگا جو اسلام سے ہم آہنگ ہو ـ تو جس طرح یہاں کمیونزم کو رد کیا گیا تھا ایسا ہی سیکولرزم کو بھی دھتکارا جائے گاـ

ایران کا سفر ایران کی رسمی دعوت پر ہوا ہےـ جس میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے افغان مہاجرین کی آمد ورفت ہوتی ہے اور انہیں مشکلات درپیش تھیں اس حوالہ سے بات چیت ہوئی ـ ہمارے مجاہدین نے ایرانی سرحدات تک رسائی حاصل کی تھی اس حوالہ سے انہیں اطمینان دلایاگیاـ کابل میں چند سیاسی شخصیات نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی ان سے بھی بات ہوئی اور یہ ہم بھی چاہتے تھے کہ اس طرح سے مذاکرات کے سلسلہ کو تیز کرسکےـ ساتھ میں روس کو بھی کچھ تحفظات تھے ان کے نمائندے کو اسی حوالہ سے اطمینان دلایاـ اور پڑوسی ہونے کے ناطے علاقائی مسائل پر بھی بحث ہوئی ـ

قومی تنصیبات اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانا شریعت اور قانون کی رو سے بدترین جرم ہےـ الحمدللہ امارتِ اسلامیہ نے ڈیڑھ سو سے اضلاع فتح کئے ہیں اور کہیں بھی ایسا نہیں کیا ہےـ البتہ دشمن نے یہ روش اپنائی ہے کہ جس ضلع سے بھاگ جاتے ہیں بعد میں اسے بمباری کا نشانہ بناتے ہیں ـ جس کی واضح مثال صوبہ قندز کا ضلع خان اباد ہے کہ دشمن نے چھوڑنے کے بعد اسے بمباری کانشانہ بنایا اور چالیس دوکانوں سمیت تباہ کرڈالاـ اسی طرح صوبہ فاریاب میں ایک سو ستر دوکانوں سمیت ضلعی ہیڈکوارٹر کو تباہ کیاـ اور بہت ساری مثالیں موجود ہیں ـ لیکن امارتِ اسلامیہ نے ایسا کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہےـ اور جن جگہوں کی نسبت ہماری طرف کی جاتی ہے اس کی حقیقت بھی سمجھنی چاہیےـ کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہے کہ دشمن اسے بطور مورچہ استعمال کرتا ہے ـ اور اس کو اکھاڑنا جنگی اصول کے عین مطابق ہےـ دشمن الزام لگاتے وقت یہ کیوں بھول جاتا ہے جب وہ عام لوگوں کے گھروں کو محض اس لئے مسمار کردیتا تھا کہ طالبان اسے مورچہ بناسکتے ہیں؟

اسلامی نظام وہ ہوتا ہے جو فقہ کے اصولوں کی بنیاد پر ہو اور اسلام کی روح سے شناور اور اسلامی قانون کے ماہرین نے اسے تشکیل دیا ہوـ اور موجودہ جو نظام ہے یہ تو امریکا اور استعماری ٹولہ نے بنایا ہےـ اور یہ ہم تسلیم نہیں کرسکتے کہ امریکا نے اسلامی نظام بنایا ہےـ دنیا میں کوئی ذی شعور شخص یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ امریکا لوگوں کو اسلامی نظام دیتا رہےـ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلامی نظام کا مطلب یہ ہے کہ جارحیت کا یکسر خاتمہ ہوـ اسلام کے جید اور ماہر علماء دین اور اصول کی روشنی میں ایک ایسانظام تشکیل کریں جس کے مکمل قوانین اسلامی ہوـ جتنے غیر اسلامی قوانین ہیں انہیں حذف کردیا جائیں ـ امیر کا انتخاب اسلامی قانون کے مطابق ہو ـرشوت اور دھاندلی کے ذریعہ نہ ہوـ ہر ذمہ داری اہل آدمی کے پاس ہو اور نااہلوں کو دور رکھا جائےـ اس کو اسلامی نظام کہاجاتا ہےـ یہاں یہ کہنا بالکل فضول ہے کہ اس وقت ملک کے حالات ایک نیا نظام کے متحمل نہیں ہیں ـ کیونکہ اس وقت اتنا کمزور نظام نافذ ہے جس میں دن دہاڑے قانون کے رکھوالے چوری اور ڈاکہ ڈالتے ہیں ـ بلکہ چوری ایک قسم کا فخریہ عمل ہے تو اس نظام سے تو نہ ہونا ہی بہتر ہے ـ لیکن اگر اس کی جگہ ایک بہترین اسلامی نظام لیتا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے قابل غور نہیں ـ ہمیں یقین ہے کہ جہاد ہی کے ذریعہ اس فاسد نظام کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور اسلامی نظام کو قائم کیا جاسکتا ہے ـ کہ قرآن کریم نے ہم سے یہی وعدہ کر رکھا ہے”إن تنصرواالله ينصركم” یعنی اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو اللہ تمھاری مدد کرے گاـ

ملک کے ستر فیصد پر ہمارا قبضہ ہےـ اس پر یہ اعتراض کرنا بے جا ہے کہ امارتِ اسلامیہ کے پاس ایک بھی صوبائی مرکز نہیں ہے تو ستر فیصد کیسا بنتا ہے؟ آج ہی میں نے اعدا وشمار سامنے رکھے تو یہ معلوم ہوا کہ دس صوبے ایسے ہیں جن کے صوبائی مرکز کے علاوہ باقی تمام اضلاع ہمارے قبضہ میں ہیں ـ اور صوبائی مراکز ہم نے اس لئے چھوڑے ہیں کہ وہاں نقصان کا زیادہ خطرہ ہےـ اس لئے ہم احتیاط سے کام لے رہے ہیں تاکہ مذاکرات کے ذریعہ کوئی حل نکل جائےـ اگر عوامی نقصان کا خدشہ نہ ہوتا تو کب کے ہم بہت سارے صوبائی مراکز پر بھی فتح حاصل کرچکے ہوتےـ

Related posts