Select your Top Menu from wp menus

دو طرفہ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت

دو طرفہ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت

دو طرفہ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت

تحریر: سیف العادل احرار

افغانستان کے پڑوسی اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ کبھی کبھار نچلی سطح پر سرحدوں پر ناخوشگور واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں تاہم اعلی حکام کی سفارتی کوششوں سے ان چھوٹے موٹے مسائل پر جلد قابو پالیا جاتا ہے لیکن اس بار پاکستان کے اعلی حکام کی جانب سے ایسے بیانات دیئے گئے ہیں جو دو طرفہ تعلقات کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بیان دیا کہ امارت اسلامیہ نے اگر افغان سرزمین میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی نہیں کی تو پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے۔

اس بیان پر افغان وزارت دفاع نے فورا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ کے بیان کو اشتعال انگیز اور بے بنیاد قرار دیا، وزارت دفاع نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا کہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے خود پاکستان میں موجود ہیں، وہ وہاں اندر سے کارروائیاں کررہے ہیں، پاکستانی حکام کے اس طرح کے دعوے دونوں پڑوسی اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان قائم اچھے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گے، افغان وزارت دفاع نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے تمام تر خدشات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے، اگر پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں تو وہ سفارتی ذرائع سے افغان حکومت کو فراہم کریں، ثبوت کے بغیر الزامات دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
اگلے روز امارت اسلامیہ کے مرکزی ترجمان محترم ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ امارت اسلامیہ پاکستان سمیت تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتی ہے، حالیہ دنوں پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان کے خلاف بیانات دیے جانے والے قابل افسوس ہیں، پوری کوشش کررہے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، ہم اس مقصد کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں، پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے، اشتعال انگیز خیالات کے اظہار سے اجتناب کرے، ان کے مطابق امارت اسلامیہ اپنے ملک کے اندر امن و استحکام کو اہمیت دیتی ہے، اسی طرح پورے خطے کے لیے امن و استحکام چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

امارت اسلامیہ کے اعلی حکام کی جانب سے پڑوسی ملک کو اپنی سرزمین سے امن کا پیغام دینے اور دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والے الزامات سے گریز کرنے کا مطالبہ نہ صرف معقول اور سنجیدہ ہے بلکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کے لئے بھی مفید ہے، پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس پیغام کا مثبت جواب دے، ورنہ تیسری قوت اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھاسکتی ہے، وزیر داخلہ کے بیان کے بعد امریکہ نے بھی ان مسائل میں دخل اندازی کی کوشش کی جوکہ لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے امن سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور معیشت کی مضبوطی کے لئے ٹاپی، ٹاپ اور کاسا زر جیسے اہم اقتصادی منصوبوں کو پروان چڑھائے اور معاشی پلان بنانے کے لئے امارت اسلامیہ کی کوششوں کا ساتھ دے، اس حوالے سے امارت اسلامیہ کے اعلی حکام پرعزم ہیں کہ وہ ملک کو اقتصادی راہداری میں بدلنے کے لئے کوئی موقع ضائع نہیں کریں گے۔

امارت اسلامیہ کی پوری پالیسی معیشت کے گرد گھوم رہی ہے، معیشت کو پروان چڑھانا امارت اسلامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس حوالے سے چند روز قبل وزیر خارجہ محترم مولوی امیر خان متقی نے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت مثبت پیغام دیا تھا کہ ڈیورنڈ لائن پر بدامنی اور جنگ کے واقعات کسی کے مفاد میں نہیں ہیں، ہم آپ کو مسلمان بھائی اور پڑوسی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور آپ کا رویہ بھی یہی ہونا چاہیے، ہم نے آپ کے لیے ٹرانزٹ کے راستے کھول دیے ہیں، تعلق دوطرفہ ہونا ضروری ہے تاکہ مسائل ختم ہوں،وزیر خارجہ نے ’ٹیکس جرمانے کی معافی‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تجارتی راستوں پر مسائل پیدا کرنے سے دونوں ممالک متاثر ہوتے ہیں، افغانستان میں حالات کو غیر محفوظ بنانے میں بعض غیر ملکی حلقے ملوث ہیں، افغان وزیر خارجہ نے سوال کیا کہ آج سکیورٹی خدشات میں انٹیلی جنس سے پوچھیں کہ اندرونی یا بیرونی ہاتھ ملوث ہیں؟ جو لوگ ان واقعات کے سلسلے میں گرفتار ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم افغانستان کے پڑوسیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہے۔

امارت اسلامیہ کے ان اعلی حکام نے نہایت مثبت انداز میں اپنے مسلم پڑوسی ملک کو پیغام دیا ہے کہ تنازعات میں پڑنے اور تیسری قوت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے دو طرفہ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس سے دونوں ممالک بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، امارت اسلامیہ طویل بحرانوں سے اپنے ملک کو نکالنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ بدامنی اور بیرونی مداخلت ملکی سلامتی، معیشت اور دو طرفہ تعلقات کے لئے کتنا نقصان دہ ہے، اسی لئے امارت اسلامیہ بھرپور کوشش کرہی ہے کہ نہ خود پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور نہ ہی دوسروں کو اجازت دیتی ہے کہ وہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے، ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کے لئے ناگزیر ہے، معاشی تعلقات کو پروان چڑھانے کے لئے خطہ کو امن کا گہوارہ بنانا سب کی ذمہ داری ہے، اسی جذبے کے ساتھ امارت اسلامیہ نے کچھ عرصہ قبل خیرسگالی کے طور پر ٹی ٹی پی اور پاکستان کے حکام کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا، یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امارت اسلامیہ کس قدر امن کو ترجیح دیتی ہے اور پرامن خطے کے لئے کوشش کررہی ہے۔

About The Author

Related posts