شرمناک کم ظرفی اور تنگ نظری

شرمناک کم ظرفی اور تنگ نظری

تحریر: سیدعبدالرزاق

گزشتہ دنوں افغان نوجوانوں نے اپنے ان سپوتوں کی ستائش کی خاطر ایک ہیش ٹیگ چلایا تھا جنھوں نے اپنی پھول جیسی جوانیاں دینِ اسلام کے تحفظ کی خاطر قربان کردی تھیں ـ جنھوں نے روئے زمین پر سب سے محبوب ترین چیز زندگی دینِ محمدی کی بقاء کے لئے نثار کردی تھیں ـ جنھوں نے اپنے جسد پر بم وبارود باندھ کر جسم کے ٹکڑوں سے وطن، اسلام اور مشرقی تہذیب وثقافت کی حیثیت برقرار رکھی ـ
یہ ہیش ٹیگ جو #فدایان کے نام سے موسوم تھا صرف اور صرف آدھے گھنٹے میں افغان عوام کی بے پناہ محبت اور عقیدت کی وجہ سے ٹرینڈ بن گیا اور افغانستان کی سطح پر ٹاپ ٹرینڈ کے طور پر نمایاں ہوا ـ افغان عوام نے جس طرح اپنے سپوتوں کی تعریف وستائش کے لئے چلائے جانے والے ہیش ٹیگ کی حمایت کی اور جس محبت ومقبولیت سے اسے نوازا وہ جس طرح اس حوالہ سے شاندار امر تھا کہ معاصر دنیا میں ایسا جذبہ ناپید دیکھا گیا ہے اسی طرح وہ اس حوالہ سے بھی ممتاز ہے کہ تاریخ میں یہ محبت وعقیدت محفوظ ہوگی ان شاءاللہ ـ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ دنیا نے جنگ زدہ،ستم زدہ اور مظلوم افغانوں کو اپنی خوشی کے اظہار اور اپنے سپوتوں سے اظہارِ عقیدت کی اجازت نہیں دی اور انہیں سوشل میڈیا میں پابندِ سلاسل کردیاـ
عالمی اصول کے پیشِ نظر افغان قوم دیگر اقوام کی طرح اپنی رائے کی آزادی اور اظہار مافی الضمیر کا حق رکھتی ہےـ افغان عوام دنیا کے مسلمہ وضع کردہ اصول کے پیش نظر اس حق سے بہرہ ور ہیں کہ کس کو سپورٹ کریں اور کس سے قطع تعلق کا اعلان کریں ـ وہ آزادانہ طور کسی کی تعریف کے بھی مجاز ہیں اور مذمت اور تنقید بھی کرسکتے ہیں ـ لیکن دنیا نے اس مسلمہ اصول کی بھی پاسداری نہیں کی اور انہیں پنجہ استبداد میں دھکیلنے کی کوشش کی ـ
رپورٹوں کے مطابق سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں ان ٹویٹر اکاونٹس کو انتظامیہ کی جانب سے بین کردیا گیا ہے جن پر #فدایان کا ہیش ٹیگ نمودار ہوا تھاـ اور جن کے ساتھ بہت ہی احسان آمیز رویہ رکھا گیا تو ان کے فالورز بالکل صفر یا کم کردئیے گئے ہیں ـ جن جن افراد نے اپنے اکاونٹنس کی بحالی کے لئے پراسس طے کرنے کی درخواست دی ہیں انہیں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کمیونٹی کے اصول کے خلاف نواد نشر کیا ہیں ـ جس کی بناء پر وہ دوبارہ اپنے اکاونٹنس کی بحالی نہیں کرسکتےـ مذکورہ افراد نے باصرار انہیں بتایا ہیں کہ ہم تو اس عالمی پرفریب اور دلربا نعرے سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا کے ہر فرد کو "اظہارِ رائے کی آزادی” کا حق حاصل ہےـ لیکن اظہارِ رائے کی آزادی کی دہائی دینے والوں کے کانوں پر جوں کی توں نہیں رینگی ہے اور بہرحال اس کام کو وہ جرم گرداننے پر مصر ہیں ـ
سوشل میڈیا پر پابندیوں کے سلسلہ کا یہ پہلا مرحلہ نہیں ہےـ اس سے پہلے بھی دو مشہور ایپ "فیسبک اور واٹس ایپ” پر اس طرح کی پابندیاں موجود تھیں اور بدستور برقرار ہیں ـ فیسبک پر تو اس قدر محدودیت ہے کہ سالِ گزشتہ راقم نے محض خوش طبعی کے لئے ایک شعر پوسٹ کیا تھا جس میں "عمر” کا نام آیا تھا ـ تو اس نام کی وجہ سے انتظامیہ نے دو سیکنڈ میں وہ آئی ڈی اڑادی ـ اسی طرح دیگر بے شمار نام اور الفاظ ہیں جنھیں فیسبک نے بلیک لسٹ میں ڈالے رکھے ہیں ـ
یہاں حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف دنیا مسلسل افغانستان کی نئی حکومت پر الزام لگارہی ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی میں بڑی رکاوٹ ہےـ دنیا کہہ رہی ہے کہ موجودہ افغان حکومت نے لوگوں کو آزادانہ طور پر حقائق بیان کرنے سے روک دیا ہےـ اور اس کے ثبوت کے لئے وہ افغانستان کی چالیس ملین آبادی میں سے کبھی کسی خاتون یا پھر کسی آدمی کو میڈیا پر نمودار کرتی ہےـ اور وہ شخص پھر واویلا کرتا ہے کہ ہاں! ہمیں فلاں فلاں بات سے منع کیا گیا تھاـ یہ آدمی کون ہوتا ہے؟ اس خاتون کا تعلق کس شہر سے ہوتا ہے؟ تحقیقات کے نتیجہ میں پتہ چلتا ہے کہ یہی آدمی دراصل چند ٹکوں کی خاطر محض الزام تراشی کررہا تھا اور اسے اپنے اس عمل پر دنیا کی طرف سے سازش رچانے کی خاطر رقوم مل رہی تھیں ـ اور یا پھر اس خاتون کا یورپ اور امریکا جانے کو جی چاہتا ہے لیکن کوئی موقع میسر نہیں آتاـ اس لئے وہ بایں طور اپنی جھوٹی مظلومیت دکھاتی ہے تاکہ مغربی آقا مہربان ہوجائے اور اس کے لئے ویزے کا انتظام کرلےـ بہر کیف اگر ایک دو افراد کے بارے میں تسلیم بھی کرلیا جائے کہ افغان حکومت کی طرف سے انہیں ڈرایا دھمکایا گیا ہے اور اسے جرم قرار دے دیا جائے تو کیا اس سے ڈبل جرم بلکہ کئی گنا ڈبل جرم یہ نہیں ہوگا کہ محض اپنی خواہشات کے ناموافق ہونے کی بنیاد ہر ہزاروں افراد کے اکاونٹس بند کردئیے جائیں اور ان کا حق رائے دہی سلب کرلیا جائے؟
سوال یہ ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے لئے معیار کیا ہے؟ کونسی آزادی معتبر ہے اور کونسی نہیں؟ کیا اس کے لئے کوئی مسلمہ قانون ہے؟ ایک طرف تو اس قدر کھلی چھوٹ معلوم ہوتی ہے کہ جب اسلامی ممالک میں اسلام کی قدآور شخصیات کی توہین کے سدباب کے لئے کوئی قانون بنتا ہے تو دنیا آسمان سر پر اٹھالیتی ہے کہ جی یہاں تو آزادی کا حق چھین لیا گیا ہےـ مگر دوسری طرف کم ظرفی اور تنگ نظری کی یہ حالت ہے کہ کسی کا نام لکھنا بھی گوارا نہیں کیا جاسکتاـ یہ دوہرا معیار جہاں انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے وہاں دیکھنے والوں کی نگاہ سے پستی، کم ظرفی اور تنگ نظری کی بھی انتہاء ہےـ
یہاں ایک اور نکتہ بہت ہی دلچسپ ہےـ دنیا جب بھی افغانستان کی نئی حکومت کو تنقید کا شکار بناتی ہے تو دلیل یہ پیش کرتی ہے کہ افغانستان کی یہ حکومت افغان عوام کے حقوق نہیں دے پارہی ـ اور افغان عوام تک اپنے حقوق پہنچانا اس لئے لازمی ہے کہ یہ بہت ہی ستم رسیدہ اور مظلوم قوم ہےـ دنیا کے طرز گفتگو سے پتہ یہ چلتا ہے کہ گویا اسے افغان قوم سے حد درجہ خیرخواہی اور ہمدردی ہےـ لگتا ایسا ہے کہ افغان عوام روئے زمین پر اس کی محبوب ترین قوم ہےـ لیکن دوسری جانب حالتِ زار یہ ہے کہ یہ مظلوم لوگ جب کسی چیز پر الفاظ ونعروں میں اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں تو ایک پل انہیں گوارا نہیں ہوتاـ آخر یہ الفاظ ومعانی میں اس طرح کا فاحش تفاوت کیوں ہے؟ آخر قول وعمل میں یہ کھلا تضاد کیوں ہے؟ آخر اس مظلوم قوم سے گفتار میں دوستی اور کردار میں کھلی عداوت کیوں ہے؟
دراصل یہاں معیار پہلے سے طے شدہ ہےـ دنیا کے پاس اپنا ایک وژن ہےـ وہ بیس سال افغانستان کی حرمت اسی لئے پامال کرتی رہی تاکہ یہاں اپنی من مانیوں میں آزاد رہےـ لیکن افغان عوام نے اپنی بے مثال بہادری اور جرات سے اسے اس کی اجازت نہیں دی ـ اور نصرتِ الہی سے اس کا راستہ روک لیاـ جس پر دنیا نے اپنا پینترا بدل لیا اور چاہا کہ دودھ کی پیالی میں زہر دیا جائے تو آزادی اور حقوق وغیرہ ناموں سے دھوکہ دینے کی کوشش کی ـ لیکن دام میں کوئی نہیں پھنساـ اس لئے اب اپنی کم ظرفی کا اظہار کرکے پابندیاں لگادیں ـ لیکن وہ یہ بھول گئی کہ یہ غیور ملت جس طرح میدانِ کارزار میں پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی اسی طرح یہ فکری اور نظریاتی میدان میں بھی جم کر رہنے والی ہے ان شاءاللہ ـ

About The Author

Related posts