معاشی استحکام کے لئے بہترین مواقع

معاشی استحکام کے لئے بہترین مواقع

تحریر: سیف العادل احرار

نصف صدی کے کشت و خون، دو قابض قوتوں کی جارحیت، خون ریزی، قتل و غارت گری اور بدامنی کے بعد پہلی بار افغانستان نہ صرف امن کا گہوارہ بنا بلکہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس میں زمام اقتدار بھی ایسے نیک و پارسا لوگوں کے ہاتھ لگا جن سے امت مسلمہ کی بڑی توقعات وابستہ ہیں، جو کرپشن کی لعنت سے پاک، خشیت ایزدی سے سرشار اور انبیاء کرام کے قابل فخر ورثاء میں شامل ہیں جو دو عالمی قوتوں کی جارحیت اور سفاکیت کا مردانہ وار مقابلہ کر چکے ہیں، جو کرب و ابتلاء کے تمام کٹھن مراحل طے کر کے مسند اقتدار تک پہنچے ہیں، جو بگرام جیل سے لیکر گوانتاناموبے تک تمام بدنام زمانہ جیلوں کے انسانیت سوز مظالم سے گزر کر اولوالعزمی کا امتحان پاس کر چکے ہیں، جن کے سامنے لاکھوں شہداء کے یتیم بچے اپنی مظلومیت سے مقدس لہو کے مقاصد یاد دلارہے ہیں، جن کی ترجیحات میں اقتدار کی ہوس، پرکشش عہدوں اور مراعات کے حصول کے لئے باہمی اختلافات، رسہ کشی اور دنیاوی مفادات تک رسائی کی بجائے ملکی وحدت، قومی خودمختاری اور ملک و قوم کی دینی شناخت کا تحفظ شامل ہیں، جو اسلامی اقدار اور تہذیب کے تحفظ کے لئے لازوال قربانیاں دے چکے ہیں، جو میدان کار زار سے فاتح نکلے ہیں اور میدان سیاست کی پرخار وادی سے بھی سرخرو ہوکر اس مقام تک پہنچے ہیں، یہی وہ امتیازی صفات ہیں جو دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں ناپید ہیں، اسی لئے ان کے نظام اور دیگر اسلامی ممالک کے نظاموں اور ترجیحات میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔
امارت اسلامیہ کے حکمرانوں کو اب جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا چیلنج معاشی استحکام ہے، کیونکہ افغانستان پر امریکہ نے دوحہ معاہدے کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور کسی ملک نے بھی اب تک امارت اسلامیہ کو تسلیم نہیں کیا ہے، اس کے باوجود امارت اسلامیہ نے ایک سال کے دوران معاشی لحاظ سے خلاف توقع اہم کامیابیاں حاصل کیں، مثلا بیس برس کے بعد پہلی بار اپنی آمدنی سے قرضوں اور بیرونی امداد کے بغیر قومی بجٹ پاس کیا، ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، لاکھوں ملازمین کو بلا تعطل تنخواہوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا، ڈالر کے مقابلے میں افغانی کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھا اور مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جبکہ سابقہ دور میں اربوں ڈالر بیرونی امداد کے باوجود ان کامیابیوں کا حصول محض ایک خواب تھا۔
امارت اسلامیہ کی پالیسی اس وقت معیشت کی بحالی کے گرد گھومتی ہے، وہ دوسروں کی امداد پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنی محنت سے اپنے وسائل پر قوم کو اٹھانے کی پالیسی پر گامزن ہے، اس حوالے سے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اور مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاھد ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہماری پالیسی معیشت کی بحالی پر مبنی ہے، ہم پڑوسی اور علاقائی ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کو بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، افغانستان کو اس خطے میں مرکزی چوک کی حیثیت حاصل ہے، جو وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے ملانے میں پل کا کردار ادا کرتا ہے، افغانستان کی اس اہمیت کے پیش نظر امارت اسلامیہ کے حکام نے ٹاپی، ٹاپ اور کاسا زر جیسے اہم اور بڑے منصوبوں پر کام شروع کرنے کو ترجیح دی ہے، جن پر عمل درآمد سے نہ صرف افغانستان کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ان منصوبوں میں شامل ہمسایہ ممالک بھی مستفید ہو سکیں گے۔
ٹاپی (TAPI) گیس پائپ لائن منصوبہ، جس میں ترکمنستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا شامل ہیں، امارت اسلامیہ کے حکام نے یہ منصوبہ خطے کی معاشی ترقی اور علاقائی ربط سازی میں اہم باب قرار دیا ہے اور فوری طور پر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے، ”ٹاپی“ منصوبے کی معاشی و جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ مخالف ممالک بھی دشمنیوں کو ایک طرف رکھ کر باہمی معاشی مفادات کے لئے اکٹھے چل سکتے ہیں۔
”ٹاپی“ منصوبہ توانائی بحران اور جنوبی ایشیا میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے، یہ پائپ لائن فریق ممالک کی ترقی میں کلیدی کردار کی حامل ہوگی اور اس سے خطے میں استحکام میں اضافہ ہوگا۔
”ٹاپی“ منصوبے کے تحت 1812 کلو میٹر لمبی پائپ لائن بچھائی جائے گی جو خطے کے ان چاروں ملکوں کو جوڑ دے گی، اس پائپ لائن کو امن کی پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے جو ان چاروں ملکوں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، یہ منصوبہ علاقائی استحکام کے لئے بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس عظیم منصوبے کے ذریعے 33 ارب مکعب میٹر گیس سالانہ فراہم کی جائے گی، افغانستان کو اس پائپ لائن سے سالانہ راہداری کی مد میں چالیس کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے، اس طویل منصوبے میں گیس پائپ لائن کے علاوہ 500 کلو واٹ بجلی کی ترسیل، ریلوے لائن، آپٹیکل فائبر کیبل اور سڑک کی تعمیر بھی شامل ہیں۔
”ٹاپ“(TAP)منصوبہ جس میں ترکمنستان، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں، ٹاپ ترکمنستان سے براستہ افغانستان پاکستان کو بجلی کی منتقلی کا بڑا منصوبہ ہے جس کا افتتاح 2015 میں ترکمنستان کے دارالحکومت اشک آباد میں ہوا تھا، افغان حکام کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد سے افغانستان نہ صرف بجلی سے مستفید ہوگا بلکہ ہر سال ٹرانزٹ رائٹس کی مد میں 100 ملین ڈالر بھی حاصل کرے گا، اس منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا افغانستان اور خطے کے ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔
کاسا زر منصوبہ بجلی اور توانائی کی فراہمی کا بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت کرغزستان اور تاجکستان 1250 کلومیٹر پاور ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے 300 میگاواٹ بجلی افغانستان اور 1000 میگاواٹ بجلی پاکستان کو فراہم کریں گے، کاسا زر منصوبے پر عملد رآمد سے افغانستان کو بجلی کی ترسیل سے سالانہ تقریبا 45 ملین ڈالر حاصل ہوں گے۔ افغان حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت افغانستان کے 600 علاقوں کو بجلی فراہم کی جائے گی، یہ منصوبہ وسطی ایشیا سے شیرخان سرحد کے راستے افغانستان کے شمال میں داخل ہوتا ہے اور پھر قندوز، بغلان، پنجشیر، کاپیسا، کابل، لغمان اور ننگرہار سے ہوتا ہوا طورخم کے راستے پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں داخل ہوتا ہے، اس منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے، قندوز میں بجلی کے 140 کھمبوں کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے اور جلد دیگر صوبوں میں بھی یہ منصوبہ شروع کر دیا جائے گا، افغانستان کی حدود میں بجلی کے 560 کھمبے لگائے جائیں گے۔
علاقائی ممالک کو چاہیے کہ تجارت کے فروغ کے لئے سرمایہ کاروں کو آسان ویزے کی سہولیات دی جائیں تاکہ باہمی تجارت میں اضافہ ہو، ٹاپی، ٹاپ اور کاسا زر منصوبے علاقائی توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام کے لئے اہمیت کے حامل ہیں جن کی تکمیل سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی، افغانستان نے اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں خطے کے متعلقہ ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ توانائی کے بحران پر قابو پانے اور معاشی استحکام کے لئے ان بڑے اور اہمیت کے حامل منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔

About The Author

Related posts