کابل انتظامیہ کےعہدیداروں کے پروپیگنڈوں اور دعوؤں کے بابت ترجمان کا ردعمل

کابل انتظامیہ کےعہدیداروں کے پروپیگنڈوں اور دعوؤں کے بابت ترجمان کا  ردعمل

آج کابل انتظامیہ کے ایک عہدیدار نادر نادری نے دعوہ کیا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی جانب سے مفتوحہ اضلاع میں عوامی خدمات کو مسائل کا سامنا ہے، عوام کو نقصان پہنچا ہے یا لوٹ مار وغیرہ افواہات…
ہم دشمن کے اس پروپیگنڈے کی شدید تردید کرتے ہیں۔
• دشمن سےتازہ قبضے میں لینے جانے والے 193 اضلاع میں عوامی خدمات کے لیے ہر قسم کی سہولیات کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
• تازہ ترین تمام 193مفتوحہ اضلاع میں امن و امان برقرار ہے، ایسا امن و امان جسےکابل انتظامیہ نے تمام وسائل کے باوجود کابل یا کسی اور شہر میں قائم نہیں کیا۔
• جس جگہ بھی امارت اسلامیہ کے مجاہدین پہنچے ہیں، وہاں بیت المال (قومی خزانے)یا عوام کے ذاتی اموال لوٹ، ضائع اور نہ ہی اسے نقصان پہنچا ہے۔
• صحت، تعلیم، زراعت، تعمیراتی امور اور منصوبوں کے نفاذ کا کہیں بھی روک تھام نہیں ہوا ، بلکہ اس کےبرعکس تمام کمپنیوں، جہتوں اور فلاحی اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ ماضی کی نسبت اپنے امور کو پرامن ماحول میں جاری رکھیں۔
• تازہ فتح ہونے والے اضلاع کے بازاروں میں عوامی ہجوم میں اضافہ ہوا ہے۔ تاجر، دکاندار، کاریگر وغیرہ پرامن ماحول میں اپنے روزمرہ امور کو آگے بڑھا رہے ہیں،انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔
• عوام کے حقوقی دعوے، تنازعات وغیرہ مسائل کے حل کی خاطر تمام اضلاع میں عدالتوں نے کام شروع کیا ہے۔ رشوت، تعلل، زور اور جبر کے بغیر عوام کے مسائل حل کیے جارہے ہیں۔
• تعلیم اور صحت کے تمام این جی اوز کو دعوت دی گئی ہے کہ ہمارے علاقوں میں امن و امان کے قیام سے اپنی خدمات میں اضافہ اور عوام کی خدمت کریں۔
• کسی پر بھی کوئی زور، جبر، پابندی اور شرط نہیں لگایا گیا ہے، سبھی اسلامی نظام کے زیرسایہ سکون سے اپنے روزمرہ زندگی کے معاملات میں مصروف ہیں،جس کی ہم نے وقتافوقتا ویڈیوز اور رپورٹیں بھی شائع کی ہیں۔
اس حوالے سے کابل انتظامیہ کی پریشانی قابل تعجب ہے، کیونکہ انتظامیہ کے حکام تمام امکان اور وسائل کے باوجود کابل شہر میں امن قائم نہیں کرسکتا۔ چوری، لوٹ مار، غصب اور رشورت کابل انتظامیہ کے روزمرہ کا معمول ہے۔اضلاع کے بارے میں ان کی پریشانی کا اظہار درحقیقت شرم کا مقام ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ
05 ذی الحجۃ 1442 ھ ق
24 سرطان 1400 ھ ش
15 جولائی 2021 ء

About The Author

Related posts