Select your Top Menu from wp menus

زرعی ترقیاتی فنڈ دوبارہ فعال کردیا گیا

زرعی ترقیاتی فنڈ دوبارہ فعال کردیا گیا

زرعی ترقیاتی فنڈ دوبارہ فعال کردیا گیا
کابل (بی این اے) نائب وزیر اعظم برائے انتظامی امور عبدالسلام حنفی نے قومی تاجروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے کہا کہ وہ کسانوں کی اقتصادی ترقی اور زرعی ترقیاتی فنڈ کی مضبوطی کے لیے تعاون کریں۔
باختر نیوز ایجنسی کے مطابق زرعی ترقیاتی فنڈ کی سرگرمیاں جو کہ بینکنگ سسٹم میں تبدیلی اور عدالتوں کے قوانین کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے معطل تھیں، دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
اس ملاقات میں مولوی عبدالسلام حنفی نے کہا ملک بھر میں سیکورٹی یقینی بنائی گئی ہے، انہوں نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے کہا کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے کان کنی، صحت، زراعت اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں مکمل اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کریں۔
مولوی عطاء اللہ عمری، قائم مقام وزیر زراعت نے کہا افغانستان کی آب و ہوا اوراچھا موسم زراعت اور باغبانی کے لیے موزوں ہے، لیکن صرف یہ چیزیں کافی نہیں ہیں۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے قومی تاجروں، بین الاقوامی تنظیموں اور پڑوسی ممالک کے سفیروں اور رفاہی اداروں سے زرعی ترقیاتی فنڈ میں تعاون کا مطالبہ کیا۔
وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا افغانستان ایک زرخیز ملک ہے اور افغانستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، ملکی ترقی کے لیے کسانوں اور کاشتکاروں کو مضبوط کرنا ہو گا، کسانوں کی مضبوطی سے افغانستان کی زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور افغانستان کو معاشی مقام ملے گا۔
اطلاعات و ثقافت کے قائم مقام وزیر ملاخیر اللہ خیرخواہ نے بھی خطاب کیا اور کہا امیر المومنین "حفظہ اللہ” زراعت، پانی اور بجلی کے شعبوں میں ملک کی ترقی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔
انہوں نے امارت اسلامیہ کی کابینہ اور دیگر معاون اداروں سے کہا کہ وہ خود کفالتی اور ترقی کے لیے ملکی پانیوں کا انتظام کریں، تاکہ ہم اقتصادی خود کفالت حاصل کر سکیں۔
وزیر خزانہ نے بینکاری نظام اور زرعی ترقیاتی فنڈ کے قیام کے بارے میں بھی بات کی اور کہا: اس فنڈ کی سرگرمیاں اسلامی بینکاری نظام کی سرگرمیوں پر مبنی ہوں گی۔
زرعی ترقیاتی فنڈ یا اے ڈی ایف کے سربراہ انجینئر عبدالغفور غفاری نے اپنی تقریر میں کہا زرعی ترقیاتی فنڈ گیارہ سال قبل وزارت زراعت کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا، اور وزارت تجارت، اعلیٰ تعلیم، خزانہ، اور افغانستان بینک اس کے ممبر تھے۔اس کا بنیادی کام زرعی صنعت کاروں کی مالی معاونت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک یہ فنڈ زراعت کی ترقی کے لیے 11 ارب افغانی خرچ کر چکا ہے جس سے 34 صوبوں کے 60 ہزار کسان مستفید ہو چکے ہیں۔
غفاری کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ کی فتح کے بعد بینکاری نظام اور افغان عدالتوں کے اصولوں میں تبدیلی کی وجہ سے اس فنڈ کی سرگرمیاں روک دی گئی تھیں اور اب یہ دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

About The Author

Related posts