ہم تمام مسلم ممالک کے اتحاد کے خواہاں ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد

ہم تمام مسلم ممالک کے اتحاد کے خواہاں ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد

ہم تمام مسلم ممالک کے اتحاد کے خواہاں ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد

ترجمہ و ترتیب: سیف العادل احرار

امارت اسلامیہ افغانستان کے مرکزی ترجمان محترم مولوی ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ترکی کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف طبقات کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، اس موقع پر انہوں نے ترکی کے ایک فارسی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کی جو افادۀ عام کے لئے اردو زبان میں پیش کی جارہی ہے۔

آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں اور اپنی گوناگوں مصروفیات کے باجود انٹرویو کے لئے ہمارے چینل کو وقت دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
سوال: امارت اسلامیہ کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوا، اس وقت آپ کی حکومت کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ معاشی استحکام ہے، اس حوالے سے امارت اسلامیہ کی پالیسی کیا ہے؟
ذبیح اللہ مجاہد: سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے اظہار خیال کرنے کا موقع دیا، امارت اسلامیہ معاشی استحکام کے لئے ایک جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے، ہم اقتصادی پابندیوں کے باوجود ملک میں معاشی استحکام کے لئے بتدریج اقدامات اٹھا رہے ہیں، معدنیات اور قدرتی ذخائر سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تجارت کو فروغ دے رہے ہیں، اس حوالے سے عالمی برداری سے بھی تعاون کی ضرورت ہے، ملک میں امن قائم ہوا ہے، اب معاشی استحکام کے لئے دنیا کی جانب سے بھی ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہم تمام پڑوسی اور خطے کے ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں۔
عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کے سوال پر مجاہد صاحب نے کہا کہ
امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے دباو کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی، ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ زمینی حقائق کا ادراک کرے، دباو کی پالیسی ترک کر کے مفاہمت کی پالیسی کو فروغ دے، اگر عالمی قوتیں دباو اور جبری پالیسی پر گامزن رہیں گی، تو یہ نہ صرف افغان عوام کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ دنیا کے حق میں بھی مفید نہیں ہے، اگر افغانستان میں استحکام ہوگا تو دنیا پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اگر افغانستان میں بدامنی ہوگی تو اس سے دنیا بھی محفوظ نہیں رہ سکتی، اس کے منفی اثرات دنیا پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ، یورپ اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ باہمی مفاہمت کی پالیسی اختیار کریں جو ہم سب کے مفاد میں ہے۔
منشیات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ
امارت اسلامیہ کے سابقہ دور میں پوست کی کاشت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی اور ہمارے زیر کنٹرول علاقوں میں پوست کی کاشت ختم ہوگئی تھی لیکن امریکی جارحیت کے بعد نئی فصلوں کی کاشت اور استعمال میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ چالیس لاکھ افغان شہری منشیات کے عادی ہوگئے، اس سے افغان عوام کو بھی نقصان ہوا اور دنیا کو بھی نقصان پہنچا، تاہم جب امارت اسلامیہ دوبارہ برسراقتدار آئی تو اس نے تمام منشیات کی فصلوں کی کاشت، استعمال اور کارروبار پر دوبارہ پابندی عائد کر دی، ہوائی اڈوں اور ملکی سرحدوں پر سخت تلاشی لی جاتی ہے اور کسی کو منشیات کی اسمگلنگ کی اجازت نہیں دی جاتی، ہماری فورسز منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے متحرک ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ
افغان عوام کے مطالبات واضح ہیں، وہ امن چاہتے ہیں، معیشت کی بحالی، اتفاق و اتحاد کے حامی ہیں اور پرسکون اور خودمختاری زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں، ہم بھی ان کے لئے اپنے ملک میں تعلیم، صحت اور کاروبار کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، دیگر ممالک سے مہاجرین واپس اپنے ملک کو لوٹ رہے ہیں لیکن اس عمل میں تیزی آنی چاہیے، ہم نے ملک میں امن قائم کیا ہے، سابقہ دور کی بنسبت امن قائم ہے، کچھ شرپسند عناصر ہیں جو بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن ہم ان کی سرکوبی کررہے ہیں، معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے ہم مسلسل اقدامات اٹھارہے ہیں، زراعت اور صنعت کے شعبوں کو فروغ دیا جارہا ہے، بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں، قومی شاہراہوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، اگر دنیا مداخلت نہ کرے تو ہم مسلسل ترقی کی طرف سفر کررہے ہیں۔
حقوق نسواں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ
ہم خواتین کو حقوق دے رہے ہیں، تعلیم اور کام کے حوالے سے شریعت کے مطابق ماحول بنارہے ہیں، اب بھی امارت اسلامیہ کے نظام میں تعلیم، روزگار، صحت، پولیس، پاسپورٹ، بینک، ائیرپورٹ سمیت مختلف اداروں میں خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں، ہم خواتین کو کام کرنے کے لئے پرامن ماحول مہیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
نظام چلانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ
امارت اسلامیہ کے ایک سال کے دوران جتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں یا ملکی نظام کو جس احسن طریقے سے چلایا گیا، وہ مخالفین کے پروپیگنڈے کے لئے کافی ہے، ہمارے نوجوانوں نے ملک کے تمام اداروں کو احسن طریقے سے چلایا، کرپشن کا خاتمہ کر دیا، امن قائم کر دیا، نظم و ضبط کو برقرار رکھا، جبکہ ملک کے تمام اداروں اور محکموں میں پرانے ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں، نئے نظام میں 80 فیصد سابقہ نظام کے لوگ کام کررہے ہیں، اس حوالے سے کسی کو کوئی تشویش نہیں ہے۔
میڈیا کی آزادی کے سوال پر کہا کہ
میڈیا افغانستان میں آزاد ہے، ہم میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، ملکی قوانین کے مطابق ذرائع ابلاغ اسلامی اقدار اور ملکی روایات کے خلاف سرگرمیوں سے اجتناب کریں، ان دو چیزوں پر ہم سمجھوتہ نہیں کر سکتے، علاوہ ازیں میڈیا مکمل آزاد ہے، ہماری جیلوں میں ایک صحافی بھی قیدی نہیں ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم صحافیوں کے صحافتی امور میں مداخلت کر رہے ہیں اور نہ ہی ان سے آزادی چھین لی ہے۔
داعش کی سرگرمیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ :داعش کے شرپسند عناصر کا قلع قمع کر کے ان کو بہت کمزور کر دیا ہے، سابقہ دور کی بنسبت اب داعش کی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، وہ کبھی کبھار مساجد یا علماء کرام کو نشانہ بناتے ہیں لیکن یہ ان کی بزدلی کی نشانی ہے، وہ نظام کے خلاف لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، مجاہدین ان کی سرکوبی کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔
غذائی قلت کے حوالے سے کہا کہ
ہمیں ملک میں غذائی قلت کا مسئلہ درپیش نہیں ہے، اگرچہ سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے ہماری معیشت کو نقصان پہنچا تاہم عالمی برادری اور پڑوسی ممالک کے تعاون سے ہم نے غذائی قلت کے مسئلہ پر قابو پایا، دوست ممالک نے بھی بھرپور تعاون کیا، جن میں ترکی، امارات، پاکستان، ایران، ترکمنستان، ازبکستان سمیت دیگر ممالک نے تعاون کیا، پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی دوطرفہ تجارت بحال ہے، ہم نے ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھا، صورتحال روز بروز بہتر ہورہی ہے، ہم موسم سرما میں اسلامی ممالک سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں جبکہ عالمی برداری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے۔
دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ
امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بحال رکھنے کے حوالے سے وزارت خارجہ کی کارکردگی بہترین رہی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، ہمارے وزیر خارجہ نے جتنے دورے کئے ہیں اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے، ماضی میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے، اب پڑوسی اور خطے کے ممالک اور عالمی برداری کے ساتھ امارت اسلامیہ کے تعلقات نارمل شکل میں بحال ہیں، ہمارا کسی ملک کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے، مختلف ممالک کے سفارت خانے کابل میں سفارتی خدمات انجام دے رہے ہیں، صرف امارت اسلامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، ہم اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغان عوام کا حق تسلیم کریں اور انہیں نمائندگی دیدیں، ہم نے ہر فورم پر یہ آواز اٹھائی ہے اور مزید بھی یہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ
امارت اسلامیہ ملک میں آباد تمام برادر اقوام کا حسین گلدستہ ہے جس میں بلا امتیاز سب کو اس نظام میں کام کرنے کا حق حاصل ہے، تمام اقوام اور قبائل کے لوگوں نے امریکی جارحیت کے خلاف تاریخی جدوجہد کی، جنہیں ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہمارے ملک میں سنی مسلک کی اکثریت ہے جبکہ اہل تشیع کے لوگ بھی موجود ہیں لیکن ہمارے ہاں فرقہ واریت اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پر مبنی رویہ کی فضا نہیں ہے، ہم سب مل کر ملک کی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں۔8
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ
ہم نہیں چاہتے کہ کوئی افغان ملک سے باہر زندگی بسر کرے، ہم نے بیرون ممالک میں مقیم افغانوں کے لئے ایک کمیشن قائم کیا ہے، افغانستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے بھائی ہیں، ہم ملک سے باہر تمام افغانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنا گھر آئیں اور ملک کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
امت مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے کہا کہ
ہماری خواہش ہے کہ تمام اسلامی ممالک اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں، اگر یورپی یونین میں شامل ممالک متحد ہو سکتے ہیں، اگر پچاس ریاستوں پر مشتمل امریکہ اتحاد کا مظاہرہ کر سکتا ہے تو امت مسلمہ کیوں منشتر ہے، حالانکہ ہمارا عقیدہ اور دین ایک ہیں اور ہم سب ایک عقیدہ کے پیروکار اور ایک دین سے وابستہ ہیں، مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کرتے ہوئے معاشی، سیاسی اور سماجی رابطوں اور تعلقات کو مضبوط بنائیں۔
ترکی کے ساتھ تعلقات کے جواب میں کہا کہ
میں نے اپنے دورہ ترکی کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ترک عوام کے دلوں میں افغان عوام کے لئے کتنی محبت ہے، ترکی ہمارا ایک دوست اسلامی ملک ہے جس نے ہر دور میں افغان عوام کے ساتھ تعاون اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح ان دو برادر اسلامی ممالک کے عوام کے درمیان محبت بھرا تعلق ہے، ان کی حکومتوں کے درمیان بھی ایسا ہی قریبی تعلق ہو، نیز علماء کرام نے ہماری بہترین رہنمائی کی، اسی طرح تاجر برادری نے افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، اس وقت ملک میں امن قائم ہے، ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، قدرتی ذخائر اور زراعت میں ترک تاجروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کریں گے۔
عالمی تنازعات کے حوالے سے کہا کہ
ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم دنیا کے تنازعات میں غیر جانبدار رہیں گے، ہم آزاد ملک کی حیثیت سے قومی مفادات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں، ملکی مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم مخالف ممالک میں کسی کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبدار رہے، مثلا روس اور یوکرائن جنگ میں ہم نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا، ہم متوازن پالیسی پر کاربند رہیں گے۔
ملکی نظام کے سوال کے جواب میں کہا کہ
افغان عوام کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے ایک نظام کا انتخاب کریں، جس طرح یورپ میں جمہوری نظام رائج ہے، عرب ممالک میں شاہی نظام ہے، دیگر ممالک میں دوسرے نظام رائج ہیں، افغان عوام نے اسلامی نظام کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں انہیں بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی منشا اور امنگوں کے مطابق نظام چوائس کریں، ہم نے جمہوری نظام کا مشاہدہ بھی کیا جو ناکام رہا، یہاں تک کہ جمہوری نظام میں شدید قومی اور سیاسی اختلافات پیدا ہوئے یہاں تک کہ ایک دن میں دو صدور کا اعلان بھی ہوا، اس لئے ہمیں تجربہ حاصل ہے کہ افغان عوام صرف اسلامی نظام کے تحت خوش ہیں اور اسی نظام کے لئے پندرہ سے بیس لاکھ تک افغانوں نے قربانیاں دی ہیں، ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں گے اور نہ ہی کسی اور کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق دیتے ہیں، ہم نے ایک عہد کیا ہے کہ ہماری سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ہم اسی وعدے پر قائم ہیں۔

About The Author

Related posts