ایک عہدساز مردِ آفریں!

ایک عہدساز مردِ آفریں!

تحریر:سید عبدالرزاق

قدرت خداوندی کی عادت یہ رہی ہے کہ جب حالت غیر ہوجائے ،نکلنے کی کوئی کیفیت باقی نہ رہےـ اطمینان کا فقدان ہوجائےـ ہر سو مایوسی کی گھٹائیں چھا جائیں ـ کسی طرف امید کی کوئی کرن نظر نہ آئےـ فکر وخیال ہلاکت کے سوا کچھ نہ سوچےـ ڈھارس بندھنے کے لئے کوئی رسی نہ ملے اور زندگی اس کیف میں چلی جا ئے جس کا نقشہ خداوند قدوس نے کچھ یوں کھینچا ہے” حتى إذا استيئس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا……. تو اس وقت آسمان سے یہ فیصلہ جاری ہوتا ہے” جاءھم نصرنا فنجی من نشاء…..سورہ یوسف، آیت: ۱۱۰ـ پھر چشمِ فلک یہ نظارہ دیکھتا ہے کہ جو کالی گھٹائیں روئے آسماں کو احاطہ کئے ہوئیں تھیں اور سورج کی کرنوں کو چھوڑدینے پہ آمادہ نہیں ہورہی تھیں وہ بیک جنبش قلم ہٹ جاتی ہیں ـ مایوسیاں جو جنم لیتے تھک نہیں رہی تھیں یکدم ختم ہوجاتی ہیں ـ اللہ پاک اپنے دین اور اپنی مخلوق کی بہبود کے لئے انہیں میں سے کچھ ایسے افراد کو اٹھالیتا ہے جو ہر ہر موڑ پر انہیں تباہی کے دہانے سے بچاتے ہیں اور کامیابی اور کامرانی کے دروازے ان پر کھول دیتے ہیں ـ
اس طرز عمل کا سب سے پہلا مظاہرہ ہمیں تب دیکھنے کو ملتا ہے جب خلافتِ راشدہ کے بعد بنومروان کے لڑکے زمامِ حکومت كو سنبھال گئے اور اسلامی ریاست کو عربی اور موروثی ریاست میں تبدیل کرکے اسلامی احکام کی دھجیاں بکھیرنے لگےـ جو بیت المال مسلمانون کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بنایا گیا تھا اسے شاعروں اور گویوں پر لٹانے کے ساتھ ذاتی جاگیر سمجھا جانے لگاـ حکومت کا ہر فیصلہ چاہے وہ کتنا ہی شریعت اسلامیہ سے متصادم ہی کیوں نہ ہو آسمانی اور حتمی شکل اختیار کرگیا اور اس پر تنبیہ کرنے والا چاہے قطب وابدال ہی کیوں نہ ہو پھانسی کی سزا بھگتنے لگاـ حکومت اپنے خلاف جس کو بھی تصور کرتی اس کاقتل بلاشبہ جائز ہوجاتاـ الغرض مسلمانوں کی زندگی تنگ ہونے کے ساتھ اسلامی شناخت کو خطرہ لاحق ہوگیا اور کسی طرف امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی ـ ایسے میں رب تعالی نے عادتِ مستمرہ کے مطابق انہیں بنومروان ہی میں سے ایک شخص عمربن عبدالعزیز کو کھڑا کرکے جانشین بنومروان کے بجائے جانشین فاروق بنادیا اور جہاں جہاں سے خرابی کی اصلاح کرنی تھی وہاں وہاں ان سے کام لیا گیا اور مسلمانوں کو آسودہ حالی نصیب ہوئی ـ
اس تسلسل کو تاریخ نے ہمیشہ ریکارڈ کیا ہے اور اگلی نسلوں تک من وعن پہنچا کردیا ہے تاکہ کوئی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوجائےـ لیکن ہم نے یہ تسلسل پڑھنے اور تاریخ سے اخذ کرنے کے بجائے بچشمِ خود ملاحظہ کرلیا ہیں ـ ہم جس افغانستان کے باسی ہیں اس مملکت کی حالت بیسویں صدی کے آخری عشرے میں کیا بنی تھی؟ یہ تو ہر ذی شعور کو پتہ ہےـ نوبت یہاں تک پہنچی تھی کہ لوگ اپنی اولاد کو قتل اور خود،خود کشی پر آمادہ ہوگئے تھےـ جن لوگوں نے روس کے خلاف علم جہاد بلند کیا تھا وہی اس ملک کی تباہی پر تل گئے تھےـ ایسے میں رب العزت نے انہیں افراد کے زمرے میں سے ایک بطل جلیل اور مرد درویش ملامحمدعمر کو اٹھایا جنھوں نے عمربن عبدالعزیز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تجدیدی کارنامے سرانجام دئیےـ یوں تو ان کی زندگی کا لمحہ لمحہ قابلِ صدافتخار اور ہر ہر جزء مستقل کتاب میں شاید سما سکےـ لیکن تین بڑے کارنامے ایسے ہیں جو ان کی شخصیت کو قرونِ اولی کی یادگار ثابت کرتے ہیں ـ
پہلا کارنامہ ملامحمدعمر کا ایک نازک وقت میں قیام ہے ـ وسائل اور زندگی کی تمامتر آسائشوں سے محرومیت کے باوجود گنے چنے افراد کو ساتھ لے کر تحریک شروع کردی ـ اس تحریک کے کیا نتائج نکلیں گے؟ اس تحریک کے نتیجہ میں زندگی کی کیا ضمانت رہتی ہے؟ ان سب باتوں سے بے نیاز ہوکر ملامحمدعمر مجاہد نے فتنہ وفساد کے خلاف کام شروع کیا اور بڑے دوٹوک انداز میں بتایا کہ روس کے خلاف جہاد کے لئے اس قوم نے جو قربانیاں دی تھیں ان کا ایک عظیم مقصد یہ تھا کہ اس ملک میں خدا کا نظام قائم ہوجائےـ آزادی اور حریت کا علم بلند ہوجائے مگر یہاں تو جینا ہی دوبھر ہوگیا ہےـ چنانچہ اس مقصد کو لے کر یہ قلندر آگے بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے محض توکلِ خداوندی کے بھروسہ، افرادی اور اقتصادی قوت سے محرومی کے باوجود تھوڑے ہی عرصہ میں ملک کے اکثر حصوں کو فساد سے پاک کردیاـ ملک جن لسانی،مسلکی اور قومی تعصبات میں جکڑا ہواتھا کسی کو محسوس کرائے بغیر ان سے بالکلیہ صاف کردیاـ ناکہ بندیوں کا خاتمہ کردیاـ جس ملک میں لوگ بدامنی کی وجہ سے خودکشی پر مجبور تھے اس کے امن وامان کی مثالیں عام دی جانے لگیں ـ لیکن میں جس کارنامے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ جس طرح دنیا میں عمومی طور پر تحریکیں اٹھتی ہیں اور ایک شعلہ بن کر ہوا ہوجاتی ہیں یا پھر ان کے نتائج کو کوئی اور ہتھیالیتا ہے ملا محمدعمر نے اپنی تحریک کو ان بھیانک نتائج سے بچالیاـ اور جو مقصد مدنظر رکھا تھا اسے حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوگئےـ تحریک ہواہوئی ہے اور نہ ہی تحریک کے نتائج پر کسی اور کا قبضہ ہوا ہےـ بلکہ جس قوم کے لئے یہ تحریک شروع ہوئی تھی اسی قوم نے ہی اسے آگے بڑھایا اور اسی نے ہی سب کچھ حاصل کیاـ جو یقینا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے معاصر عالمی تحریکوں اور افراد میں کوئی نہیں دکھا سکاـ
دوسرا عظیم الشان کارنامہ جسے میں اپنے الفاظ میں تجدیدی کارنامہ کہہ سکتا ہوں کہ افغانستان کے طول وعرض میں پھیلے بہادر عوام اور روس کے خلاف برسرِ پیکار مجاہدین اور بڑے بڑے کمانڈروں کو ملامحمدعمر نے بغیر کسی دنیوی لالچ اور مادی مفاد کے کچھ ایسا اکھٹا کرلیا جس سے صحابہ کرام کی وہ تصویر یاد آگئی جس کے بارے میں قرآن کچھ یوں نقشہ کھینچتا ہے:واذكروا نعمت الله عليكم إذ كنتم أعداء فألف بين قلوبكم فأصبحتم بنعمته إخوانا وكنتم على شفا حفرة من النار فأنقذكم منها” آل عمران:آيت:103
حالانکہ یہ وہی لوگ تھے جو ابھی حال ہی میں روس کی شکست کے بعد ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوگئے تھے اور ملک ان کی وجہ سے خانہ جنگی کا منظر پیش کررہا تھاـ صرف کابل شہر میں پانچ حکومتیں قائم ہوگئی تھیں ـ قومی اور لسانی تعصبات نے ملی یکجہتی کا شیرازہ بکھیردیا تھاـ لیکن ملامحمدعمر مجاہد نے آتے ہی کچھ اس ادا سے انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا کہ ایک دوسرے سے شیر و شکر بن گئے اور بھائی چارے کی اعلی ترین مثال قائم کردی ـ باوجودیکہ ملامحمدعمر اس سے قبل کوئی اعلی خاندان کے مشہور ومعروف چشم وچراغ تھے اور نہ ہی ان کا کوئی ایسا خاص کردار لوگوں کے سامنے تھا جس سے ان کی محبوبیت کا پرچار ہوتا لیکن اخلاص اور صدق نیت کہیے یا کچھ اور،وہ لوگ جو مختلف تنظیموں کے سربراہان تھے یا قابل فخر کارنامے سرانجام دینے والے کمانڈر، سب نے ملامحمدعمر مجاہد کے حکم کے سامنے اپنائیت مٹا کر رکھ دی ـ ملامحمدربانی،کمانڈر حاجی محمد،مولوی محمد یونس خالص،ملا عبداللطیف منصور،سیف الرحمان منصور،مولوی جلال الدین حقانی اور اس طرح کے بے شمار جہادی عظیم رہنما نہ صرف ان کے حکم پر لبیک کہہ گئے بلکہ یہاں تک نوبت آ پہنچی کہ ہر ایک نے فردا فردا ملامحمدعمر کے سامنے یہ اقرار کردیا کہ اگر آپ ہمیں کسی جگہ چوکیداری کا فریضہ سونپ دے تو ہم خوشی سے سرانجام دینگےـ افغانستان کے وہ بہادر عوام جو اپنی بہادری کی وجہ سے کسی کی حاکمیت کو برداشت نہیں کرسکتے ملامحمدعمر کے ایسے شیدائی بن گئے کہ ان کے ایک فرمان کی بنیاد دہائیوں سے جاری پیشہ یعنی پوست کی کاشت کو /100 سے صفر تک پہنچادیاـ یہ کارنامہ بجا طور پر ملامحمدعمر کی سیرت کو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی سیرت سے جا ملاتا ہےـ محبوبیت اور وقار کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ایک سال کے اندر اٹھارہ گورنرز اور متعدد وزرا کے قلمدان کو بیک جنبش قلم تبدیل کردیا اور کسی بھی جہت کی طرف سے کوئی نمائشی احتجاج تک بلند نہ ہواـ بلکہ جس کو جیسا حکم پہنچا اس نے بلا کم وکاست بصد خوشی سعادت سمجھ کر قبول کیاـ
امیرالمؤمنین ملامحمدعمر کا تیسرا عظیم الشان کارنامہ یہ تھا کہ جس وقت امریکا نے پوری دنیا کو ساتھ ملا کر افغانستان اور "ملا” کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ٹھان لی ـ تب مادیات پر نظر رکھنے والوں نے یہ یقین کرلیا کہ زمین کا یہ خدائی کا دعوی رکھنے والا اب کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے جی میں جو کچھ ہے وہ بہرحال ہوکر رہے گاـ اس لئے بعضوں نے بڑی سطح پر ملا محمدعمر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ امریکا جو مطالبہ کررہا ہے اسے پورا کیا جائے ورنہ تو تباہی ہی تباہی ہےـ اس کے جواب میں اس قلندر نے مادیات سے ذرا بھی مرعوب ہوئے بغیر جواب دیا کہ مرنا ایک دن ضرور ہے اس لئے غیرت کی موت مرنا چاہیے ورنہ تو روز موت آتی رہے گی ـ اس وقت جب کہ کوئی تصور تک نہیں کرسکتا تھا امریکا سے مقابلہ کرنے کا اور مقابلے کو دیوانگی ہی سمجھا جاتا تھا تب ملامحمدعمر نے پوری جرات اور شیردلی کے ساتھ امریکا کے حملہ کو ازروئے شرع ناجائز قرار دے کر اس کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ کا اعلان کردیاـ اور نتائج سے بے پروا ہوکر اپنے شرعی فریضہ کو نبھانے کا فرمان جاری کردیاـ بظاہر اس وقت ملامحمدعمر کا یہ فرمان ایک جذباتی قسم کا اور زمینی حقائق سے ناواقفیت سمجھا جاتا تھاـ لیکن آج بیس سال بعد وقت نے ثابت کردیا کہ سو فیصد درست فیصلہ کیا گیا تھاـ ایسا فیصلہ جو آزادی اور خود مختاری کا ضامن تھا جو بالآخر ہوکر رہاـ اور کیوں نہ ہوتا ؟ آخر جس ملامحمدعمر نے ہرطرف سے گھیرے جانے کے باوجود بھی ہمت نہ ہاری بلکہ ہمت کیا ہارتے بذاتِ خود اس میدان میں کود پڑے اور اس طرح کود پڑے کہ پھر تیرہ سال تک زندگی ہی اس مقصد کے لئے وقف کرڈالی ـ اس پورے عہد میں بیوی بچوں سمیت کسی بھی دوستی اور یاری نبھانے سے گریزاں رہے ـ بس جو کوئی کام کرنا تھا وہ اس مقدس فریضہ سے متعلق تھاـ یہاں تک کہ اسی بدیسی میں موت آئی اور خالقِ حقیقی سے جا ملے لیکن ایک لمحہ کے لئے نہ خود اور نہ ہی اپنی قوم وملک کے لئے غلامی کو قبول کیاـ
آج جبکہ انہیں ہم سے جدا ہوئے آٹھ سال مکمل ہورہے ہیں ان کی زندگی کا گوشہ گوشہ یہ صدا دے رہا ہے کہ مایوسی کی جب انتہاء ہوجائے تب میری سیرت کو اٹھا رکھنا تمھیں گھٹا ٹوپ اندھیروں میں برستے شعلے نظر آئیں گے ان شاءاللہ ـ
رحمہ اللہ وتغمدہ بغفرانہ

About The Author

Related posts