Select your Top Menu from wp menus

جنگی جرائم ستمبر2019

سید سعید

یکم ستمبر 2019 کو صوبہ فاریاب کے ضلع گرزیوان کے مرکز کے قریب افغان فوج کی بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت 12 شہری شہید اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ فاریاب کی صوبائی کونسل کے ممبر صبغت اللہ سیلاب نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی تھی۔ اسی دن صوبہ ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے انزرشالی میں قابض فوج کے ڈرون حملے میں دو موٹرسائیکل سوار شہید ہوگئے۔ جب کہ صوبہ اروزگان کے ضلع چہارچینو کے علاقے ساخر میں امریکی فوج اور افغان فورسز نے ایک مسجد پر چھاپہ مارا۔ جس میں پیش امام سمیت 6 طالب علم شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ اس ضلع کے علاقے خائی کلان میں امریکی فوج کی بمباری میں دو بزرگ شہری شہید ہوگئے۔ اسی دن صوبہ میدان وردگ کے ضلع سیدآباد کے علاقے تنگی امیر قلعہ میں امریکی فوج نے عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی، جس میں کم از کم 12 بچے شہید اور زخمی ہوگئے۔

2ستمبر کو امریکی فوج نے صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کے علاقے شفچان میں ایک مسجد پر ڈرون حملہ کیا، جس میں مسجد اور تین شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ ہرات کے ضلع شين ڈنڈ کے علاقے قلعہ رحم دل میں افغان فوج کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں 3 خواتین شہید اور دو مرد زخمی ہوگئے۔ جب کہ 4ستمبر کو صوبہ ننگرہار میں شہر جلال آباد شہر کے قریبی گاؤں ‘عربی’ میں افغان فورسز نے چار شہریوں ‘قاضی قادر، جہانزیب زاخیل وال، صبور زاخیل وال اور بہادر زخیل وال’ کو ان کے گھروں میں شہید کر دیا۔ اسی طرح صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان میں افغان فورسز نے ایک مارکیٹ پر چھاپہ مارا، جس میں پانچ دکانیں مسمار اور چھ عام شہری شہید کر دیے گئے۔

5ستمبر کو صوبہ اروزگان کے ضلع چہارچینو کے علاقوں سیگزی اور زمبوری میں امریکی اور افغان فوج کے چھاپے اور بمباری میں 26 شہری شہید اور تین مکانات تباہ ہو گئے۔ اسی دن صوبہ اروزگان کے ضلع خاص ارزگان کے علاقوں شیخی، نیکروز، بادینزو اور شیخان میں امریکی فوج کی بمباری سے گیارہ شہری شہید ہوگئے۔

6ستمبر کو امریکی فوج نے صوبہ بدخشان کے ضلع وردوج میں ایک مکان پر بمباری کی، جس سے خواتین اور بچوں سمیت ایک خاندان کے 6 شہری شہید ہوگئے۔ اسی دن امریکی اور افغان فوج نے صوبہ اروزگان کے صدر مقام ترین کوٹ میں حاجی محمد نبی خان کے اڈے پر چھاپہ مارا، جس میں 19 دکانیں اور درجنوں شہری گاڑیاں جل گئیں۔ صوبہ زابل کے ضلع شاجوئی کے بازار میں امریکی فوج کے ایک فضائی حملے میں 6 عام شہری، جو ایک دکان کے سامنے بیٹھے تھے، شہید کر دیے گئے۔

7ستمبر کو صوبہ قندوز کے مرکزی علاقوں چرخاب اور شورابی قشلاق میں افغان فوج کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت دس شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کے دولت خان کے علاقے میں قابض امریکی فوج کی بمباری میں دو عام شہری شہید ہوگئے۔ امریکی فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے حیات پل کے قریب عام گاڑی پر فضائی حملہ کیا، جس میں گاڑی مکمل تباہ اور اس میں سوار 3 شہری شہید ہوگئے۔

10ستمبر کو مشترکہ دشمن نے صوبہ غزنی کے ضلع گیرو کے گاؤں دسی پر چھاپہ مارا، جس میں دو پیش امام سمیت پانچ شہری شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ دو مساجد، ایک مدرسہ اور دو مکانات بھی مسمار ہوگئے۔

12ستمبر کو صوبہ بغلان کے ضلع پل خمری کے گاؤں احمد زئی پر قابض فوج نے چھاپہ مارا۔ دو عام شہریوں کو شہید اور دس افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اگلے دن صوبہ جوزجان کے ضلع قرقین کے گاؤں دینار میں دشمن کے راکٹ حملے میں ایک مکان کو نقصان پہنچا اور ایک شہری شہید ہوگیا۔ صوبہ ہرات کے ضلع رباط سنگی کے علاقے گنج میں افغان فوج کی فائرنگ سے دو بچے شہید اور تین شہری زخمی ہوگئے۔ امریکی اور افغان فورسز نے صوبہ غزنی کے ضلع مقر میں عظیم الدین چیمبر، لال قلعہ اور اربیگ قلعے پر چھاپہ مارا۔ دشمن نے اربیگ قلعہ میں ایک مسجد کو جلا دیا۔ ان کے گھروں کے دروازے دھماکہ خیز مواد سے توڑ دیے۔ نقدی اور قیمتی سامان لوٹ لیا۔

16ستمبر کو صوبہ قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے علاقے میاں پر امریکی فوج کے چھاپے میں ایک خاتون شہید اور ایک زخمی ہوگئی۔ تین شہریوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس چھاپے میں عام لوگوں کے دو مکان مسمار کر کے ان کی گاڑیاں جلا دی گئیں۔ جب کہ 19ستمبر کو امریکی فوج نے صوبہ لوگر کے مرکز کے قریبی علاقے کماخیل میں ایک مسجد پر بمباری کی۔ بمباری کے بعد لوگ لاشیں نکالنے میں مصروف تھے، جن پر دوبارہ بمباری کر دی گئی۔ دونوں واقعات میں 7 افراد شہید ہوگئے۔ صوبہ ہلمند کے ضلع نادعلی کے علاقے نری ماندہ میں دشمن کے فضائی حملے میں دو بچے شہید ہوگئے۔ ننگرہار کے ضلع خوگیانی کے علاقوں وزیر اور تور اوٹ پر امریکی فوج نے بمباری کی۔ ننگرہار کی صوبائی کونسل کے ممبر اجمل عمر کے مطابق اس حملے میں 24 شہری شہید اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

22ستمبر کو صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے علاقوں کنجک اور شوارزو میں امریکی فوج اور افغان اجرتی فورسز کے چھاپے اور بمباری میں 93 شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ اس واقعے میں اکثر خواتین اور بچے شامل تھے۔  کابل انتظامیہ نے دعوی کیا کہ اس کارروائی میں طالبان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔ جب کہ عام شہریوں، قبائلی عمائدین اور ہلمند صوبائی کونسل کے ممبروں نے کہا کہ یہ حملہ شادی کی ایک تقریب پر کیا گیا، جس کے باعث بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسی طرح شادی کی تقریب میں شریک درجنوں شہریوں کے علاوہ تین گاڑیاں اور چھ مکانات بھی تباہ ہو گئے۔

24ستمبر کو امریکی اور افغان فورسز نے صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے جوئی چہار گاؤں پر چھاپہ مارا، جس میں دو مساجد اور ایک مکان تباہ ہوگیا۔ دو خواتین سمیت چار شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ 28ستمبر کو صوبہ غزنی کے ضلع خواجہ عمری کے گاؤں حاجی پر ڈرون حملے میں 6 شہری شہید ہو گئے۔ اسی طرح 29ستمبر کو صوبہ غور کے ضلع چارسدی کے علاقے قلعہ گوہر میں افغان فوج کی بمباری میں ایک مسجد شہید اور مقامی لوگوں کو مالی نقصان پہنچایا گیا۔ اگلے دن صوبہ زابل کے ضلع شاہ جوئی کے گاؤں گاڈو میں افغان اہل کاروں کی فائرنگ سے چار شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس۔

 

About The Author

Related posts