Select your Top Menu from wp menus

حقیقت بیانی اغیار کی زبانی

حقیقت بیانی اغیار کی زبانی

تحریر:سیدافغان
امریکا جس عالمی استعمار کو مظلوم افغانستان پر مسلط کررہا تھا اور پوری دنیا کو اپنے ساتھ ملا کر وطنِ عزیز پر ہجوم لارہاتھا تو بہانہ یہ ایجاد کیا کہ افغانستان کے عوام تعلیم وترقی سے دور ہیں-لوگوں کو تعمیر وبہبود کے حوالہ سے بہت سی مشکلات لاحق ہیں -افغان عوام کاشتکاری کاذریعہ معاش رکھتے ہیں لیکن اس کے لیے پانی مہیا نہیں ہے-اس لیے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت ہے- افغان عوام اپنے علاج کے لیے ملک سے باہر ہمسایہ ممالک میں جاتے ہیں-اس لیے اندرونِ ملک ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔ علم ودانش کابالکلیہ فقدان ہے -اس لیے ملک بھر میں تعلیم گاہوں اور دانش کدوں کی ضرورت ہے-ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے-انہیں نئی سرے سے تعمیر اور جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے -مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان سارے کاموں میں طالبان کی حکومت حائل ہے -اس لیے پہلے اسے گرادو!

چنانچہ اس منصوبہ پر عمل درآمد شروع کرایاگیا-اسلامی نظام کو درہم برہم کیا گیا-خون کی ہولی کھیلی گئی-معصوم جانوں کااستحصال کیا گیا-ہر طرح کابارودی مواد استعمال کیاگیا اور جس چیز کو وہ حائل سمجھتے تھے اسے بیچ سے ہٹایا گیااور ہر شعبےمیں سیاہ وسفید کے مالک بن گئے-ان کو اپنی خود ساختہ ترقی اور بہبودی کاموں کے آگے کسی رکاوٹ کاآنا ممکن ہی نہ تھا-خدا کی شان کہ میڈیا جو ہرجگہ حق اور سچ کے دعویدار ہوتا ہے اس نے بھی حق اور سچ کو کچھ اس اداء سے پامال کیا کہ کوئی حقیقت باقی نہ رہی-استعمار کے ظلم وستم،کشت وخون،مار دھاڑ اور قتل وقتال سے یکسر نظریں پھیر کر مسلسل یہ باور کراتے رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی تو بس ہمیں آباد اور وطن کو گلزار کرنے آئے ہیں-وہ فلاں شہر میں اتنی اتنی تعلیم گاہوں کی بنیاد رکھی ہیں-فلاں صوبہ میں اتنے کالج اور ہسپتالوں کاافتتاح ہوا ہے-فلاں شاہراہ عام کی تعمیر کاسلسلہ چل نکلا ہے وغیرہ وغیرہ-
خبریں سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی تھیں-محسوس یہ ہوتا تھا گویا ملک وملت کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور اب کے تو انہیں خوشی اور شادمانی سے کوئی آڑے نہیں آسکتا-مگر ان سارے ہتھکنڈوں کے باوجود بھی امارتِ اسلامیہ کو یقین تھا اور وہ مسلسل یہ بات سمجھاتی رہی کہ جس طرح استعماری قوتیں ہمارے دین اور عقیدے پر ضرب لگاتی ہیں ایساہی یہ لوگ ہمارے وطن کو بھی پارہ پارہ کرلیں گے-
دوعشروں کالمبا عرصہ گزرگیا کوئی ڈیم بنا اور نہ ہی کسی کاشتکار کی ضرورت کاکوئی سامان ہوا-پورے ملک میں کوئی معیاری ہسپتال بنا اور نہ ہی کسی مریض کو باہر جانے سے نجات ملی-بلکہ ان کے بموں نے تو بیماری کی نت نئی اقسام ایجاد کی-کوئی فیکٹری بنی اور نہ ہی کسی کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے-کسی تعلیم گاہ کی بنیاد رکھی گئی اور نہ ہی کوئی ایسافرد تیار کیاگیا جو قوم کاعلمی پیاس بجھاسکے-
اس طرز عمل کی امارتِ اسلامیہ تو روزِ اول سے نشاندہی کرچکی تھی اور پیہم جد وجہد سے یہ باور کراتی تھی مگر حقیقت چپھانےوالوں نے صرف نظر کی-مگر اللہ نے اس کااعتراف ان لوگوں سے کرایا جو گزشتہ دوعشروں میں خود انہیں پروپیگنڈوں سے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے تھے-کابل انتظامیہ کے سابق وزیر خزانہ حضرت عمر زاخیل وال نے ۱۹ اگست کو ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ سالانہ بجٹ کے مصارف بشمول رئیس اور نام نہاد صدر کوئی ایک افغان متعین کرنے کااختیار نہیں رکھتاتھا-یہ سب کچھ خارجی قوتیں طے کرتی تھیں اور ہمیں بتاتی تھیں-موصوف کاکہناتھا کہ خود مجھے وہ بڑی سختی سے منع کرتے تھے کہ ایک روپیہ بھی ڈیم،فیکٹری اور بہبودی کاموں میں صرف نہ ہوجائے-
ظاہر ہے جب وزیر خزانہ کو اجازت نہ ہو کہ بہبودی کام میں کچھ خرچ کرلے تو پھر کون اس کاحقدار ہوگا؟
یہ حقیقت اور اس کااعتراف خود انہی کی زبانی امارتِ اسلامیہ کی حقانیت کو مزید مستحکم کرتا ہے اور جو موقف روزِ اول سے اپنایاہے اس تقویہ بخشتاہے-یہ تو زوال کی ابتداء ہے آگے اللہ پاک کن کن سے کیاکیا اگلواتاہے؟
دیکھیے! سنئیے اور لطف اندوز ہولیے!

About The Author

Related posts