اکتوبر 01, 2022

تازه ترین

امن تباہی کے ذمہ دار

امن تباہی کے ذمہ دار

تحریر:سیدعبدالرزاق
امارتِ اسلامیہ کی تازہ ترین اور شاندار فتوحات سے کابل انتظامیہ کی نیند اڑچکی ہے اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر اپنی کرسی بچانے کی فکر میں لگی ہےـ یوں تو پروپیگنڈا روزِ اول سے ان کا سب سے بڑا ہتھیار رہا ہے مگر حالیہ دنوں میں حواس باختگی کی وجہ سے پروپیگنڈا مہم میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہےـ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں کابل انتظامیہ کے سربراہ سے لے کر ادنی سطح کی قیادت تک کوئی نہ کوئی پریس کانفرنس اور میڈیا کے ذریعہ امارتِ اسلامیہ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی نہ کرلےـ عید کے پہلے دن سے اب تک مسلسل انتظامیہ کا سربراہ اشرف غنی روزانہ کوئی نہ کوئی بیان جاری کرتا ہے جو امارتِ اسلامیہ کے خلاف جھوٹے الزامات اور بہتان تراشی پر مشتمل ہوتا ہےـ بلکہ کئی دن تو وہ دن میں دو اور تین دفعہ نمائش کرتا دیکھا گیا ہےـ اس بارے میں سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ خود کو امن کا داعی کہہ کر بھی اپنی زبان اور عمل سے جنگ کی دعوت دے رہا ہےـ مذاکرات کے نعرے لگا لگا کر بھی اصل میدان میں مذاکرات سے گریزاں ہےـ
ابھی یکم اگست کو اس نے بہت بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان خونخواری میں شدت لاچکے ہیں ـ اور بھی ایسے بے بنیاد اور بدیہی البطلان جملے زبان سے نکالے جنھیں نقل کرنا مناسب بھی نہیں ہےـ مگر اصل حقیقت کی طرف دیکھئے تو خونخواری کی بنیاد اشرف غنی نے ہی رکھی ہے اور اس وقت جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ اس کے اشارہ سے ہورہا ہےـ عید الاضحی سے دو دن پہلے قندہار کے معزز علمائے کرام،ملی مشائخ اور قومی سربراہان کا ایک وفد امارتِ اسلامیہ کی طرف سے قندہار کے گورنر حاجی وفاصاحب کے پاس گیا اور ان سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا جس پر انہوں نے مکمل کلی اور جزئی اختیار انہیں دے دیا اور بتایا کہ جو فیصلہ تمھارا ہوگا ہمیں منظور ہوگاـ وفد یہاں سے منظوری لے کر کابل انتظامیہ کے گورنر روح اللہ خانزادہ کے پاس گیا اور صورتحال سے آگاہ کیا تو اس کا جواب یہ تھا کہ اشرف غنی کی طرف سے منظوری نہیں ہوتی ـ چنانچہ عید کے موقع پر جنگ بندی اشرف غنی ہی کی وجہ سے نہ ہوسکی ـ عید کے چند دن بعد پھر یہ وفد کابل انتظامیہ کے نامزد گورنر کے پاس گیا اور اسے آنے والے حالات سے آگاہ کیا کہ اگر شہر کے اندر جنگ ہوگی تو اس کے بھیانک نتائج کیا ہوسکتے ہیں ـ طالبان جب شہر میں داخل ہونگے تو انتظامیہ بمباری کرے گی اور پھر مجبورا طالبان اپنے دفاع کے لئے ہتھیاروں کا استعمال کریں گے جس سے شہریوں کو نقصان بہت زیادہ پہنچے گاـ گورنر بیچارے نے پھر وہی بات دہرائی کہ اشرف غنی مجھے روزانہ کے حساب سے دھمکیاں دیتا رہتا ہےـ معززین کے اس وفد نے بالآخر فیصلہ کیا کہ وہ احتجاجی مظاہرہ کریں گے لیکن جمہوریت کے ٹھیکیدار انتظامیہ اور اشرف غنی نے اس کی بھی اجازت نہیں دی اور سخت الفاظ میں انہیں دھمکی آمیز تنبیہ کردی ـ اس کا ردعمل یہ ہوا کہ اب شہر کے اندر اشرف غنی کے حکم پر لڑائی جاری ہےـ کیونکہ اشرف غنی نے ملک کو تباہ کرنے کی قسم اٹھائی ہےـ
عید کے دنوں کی ہی بات ہے صوبہ ہرات کے علماء ومشائخ اور مختلف قومی وسماجی رہنما پہلے طالبان کے پاس گئےـ ان کا اعتماد حاصل کیاـ پھر مصالحتی کردار اداء کرنے کے لئے انتظامیہ کے گورنر کے پاس گئے تو اندر داخل ہوئے بغیر انہیں باہر سے ہی واپس کردیا گیا اور بتایا گیا کہ کابل سے اس بارے میں جو پیغام آئے گا وہ آپ تک پہنچادیا جائے گاـ یہ وفد پھر ہرات میں مقیم سابق کمانڈر اور موجودہ قاتل ملیشیوں کے سربراہ اسماعیل خان کے پاس گیا وہاں سے بھی وہی جواب ملاـ وفد میں شریک ایک ممتاز عالم دین مولنا مجیب الرحمان انصاری نے 30 جولائی بروز جمعہ یہ ساری کارگزاری قوم کے سامنے رکھ دی تو انتظامیہ سیخ پا ہوگئی ـ اشرف غنی کے حکم پر کابل انتظامیہ کے وزیر برائے حج واوقاف قاسم حلیمی نے اس ممتاز عالم دین کے مصالحانہ کردار کو سراہنے کی بجائے وہ غلیظ زبان استعمال کی کہ اسے نوک قلم پر لانے سے شرم آتی ہےـ لعن طعن سمیت اس بزرگ ہستی کو خنزیر جیسے سخت نازیبا ناموں سے پکارا گیاـ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ گرفتار ہونے کی تنبیہ کی ـ جس کا نتیجہ پھر وہی ہوا کہ شہر میں لڑائی شروع ہوگئی کیونکہ اشرف غنی نے ملک کو تباہ کرنے کی قسم اٹھائی ہےـ
عجیب بات ہے کہ حج واوقاف جیسی معزز وزارت اور مذہبی امور سے متعلق منصب پر فائز شخص ایسی بیہودہ یاوہ گوئی کرتا ہے اور اپنی مشروعیت کے لئے اسلام کا سہارا لینے والا اشرف غنی اسے داد دیتا رہتا ہے پھر بھی تشدد اور خونخوار طالبان ٹھرجاتے ہیں ـ
عید کے ہی دنوں میں صوبہ ہلمند کے علماء کرام اور مشائخ کا وفد انتظامیہ کے گورنر کے پاس یہی پیغام لے کر گیا تو وہاں سے بھی یہی پیغام ملا کہ اشرف غنی نے لڑائی کا ہی حکم دیا ہےـ نتیجہ میں یہاں بھی شہر کے اندر دو بدو لڑائی شروع ہے کیونکہ اشرف غنی نے ملک کو تباہ کرنے کی قسم اٹھائی ہےـ
دوسری طرف اشرف غنی نے ملک کے طول وعرض میں بہیمانہ بمباری شروع کررکھی ہےـ آئے لمحہ یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ آج فلاں جگہ اتنے گھروں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے اور فلاں جگہ اتنے معصوم افراد کو لقمہ اجل بنادیا ہےـ اور اب تو خیر سے سرکاری املاک اور عوامی ضروریات کو بھی نشانہ پر لیا ہےـ 31 جولائی کو صوبہ ہلمند میں واقع صوبہ کے سب سے بڑے ہسپتال کو نشانہ بنا کر ملیا میٹ کردیا گیاـ ابھی وہ زخم تازہ تھا کہ اگلے دن یکم اگست کو صوبہ ہرات کے ضلع چشت کا ضلعی ہیڈکوارٹر ان کی بمباری کا نشانہ بناـ زمین بوس کردیا گیاـ کیونکہ اشرف غنی نے ملک تباہ کرنے کی قسم اٹھائی ہےـ
اب صورتحال یہ بنی ہے کہ ملک کے طول وعرض میں قومی مشائخ علمائے کرام،عوام الناس اور ہر طبقہ امن چاہتا ہے مگر اشرف غنی جنگ کا حکم دیتا ہےـ بمباری پہ فخر کرتا ہےـ صحافیوں کو ازادی اظہار رائے کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتا ہےـ علماء کو قتل کی دھمکیاں دیتا ہےـ اپنے پالتو انسانوں سے معززین شہر کی پگڑیاں اچھالتا ہےـ مگر الزام پھر بھی طالبان پر لگاتا ہے کہ وہ امن نہیں چاہتےـ ظاہر ہے نزع کے عالم میں یہ اس کی آخری کوشش ہےـ مگر قوم اچھی طرح سمجھتی ہے کہ بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟

Related posts